"> چین بھارت سرحد پر فوجی ٹکراؤ، کشیدگی برقرار
مددگار یا مکار؟ حنا جاوید کیس

مددگار یا مکار؟

جنسی زیادتی اور ہائی پروفائل قتل کے مقدمات میں کروڑوں روپے کی پیشکش اور ججوں کو رشوت کے الزامات نے نظامِ انصاف کی شفافیت کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔

چین بھارت سرحد پر فوجی ٹکراؤ، اروناچل پردیش میں کشیدگی بڑھ گئی

اروناچل پردیش میں چین اور بھارت کے فوجیوں کے درمیان مبینہ ٹکراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بھارتی اپوزیشن نے وزیراعظم مودی سے سرحدی صورتحال پر وضاحت مانگ لی۔
چین بھارت سرحد پر فوجی ٹکراؤ، کشیدگی برقرار

اروناچل پردیش میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی کی اطلاعات، چینی فوج کی نقل و حرکت اور مودی حکومت سے وضاحت کا مطالبہ۔

October 24, 2026

چین اور بھارت کی افواج کے درمیان بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں متعدد مقامات پر ٹکراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بھارتی حکام کے مطابق سرحدی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی کمانڈوز تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاملات پر رابطے جاری ہیں۔

انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ شتروجیت کپور نے راجستھان میں فورس کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ذکر کیا۔ انہوں نے تعینات شوریہ کمانڈوز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جلد ان کی مکمل بٹالین تشکیل دینے کا اعلان کیا۔

چینی فوج کی نقل و حرکت

بھارتی اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جولائی میں اروناچل پردیش کے علاقے ماجا میں چینی اور بھارتی فوجی آمنے سامنے آگئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مختصر کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے فوجی واپس چلے گئے، تاہم چند روز بعد چینی فوجی دوبارہ اس علاقے میں پہنچے اور وہاں خیمے نصب کردیے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارت اس علاقے کو اپنی سرزمین تصور کرتا ہے۔ مقامی افراد نے مبینہ تعمیرات اور روایتی چراگاہوں تک رسائی میں مشکلات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

مودی حکومت سے مطالبہ

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی صورتحال پر عوام کو آگاہ کریں اور پارلیمنٹ میں وضاحت پیش کریں۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حالیہ فوجی ٹکراؤ پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے چین اور بھارت سفارتی اور فوجی ذرائع سے رابطے میں ہیں۔

چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت اس ریاست پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس علاقے کی ملکیت کا تنازع طویل عرصے سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

ایکس پر پاکستان انٹرنیشنل کے نام سے جعلی اکاؤنٹ کا انکشاف، جو بیرون ملک سے پرانی ویڈیوز اور فیک نیوز پھیلا رہا ہے۔

October 24, 2026

جنسی زیادتی اور ہائی پروفائل قتل کے مقدمات میں کروڑوں روپے کی پیشکش اور ججوں کو رشوت کے الزامات نے نظامِ انصاف کی شفافیت کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔

October 24, 2026

راولپنڈی میں سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کی رہائش گاہ سے تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار روپے مالیت کا سامان چوری ہوگیا۔

October 24, 2026

سعودی عرب کے چار شہروں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہنگامی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

October 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *