آزاد جموں و کشمیر میں 1947 سے لے کر اب تک تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تاہم اس شاندار ترقیاتی سفر کے باوجود فسادی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 78 سالہ استحصال کا بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، جسے زمینی حقائق اور خطے کی واقعی ترقی کے سامنے بے نقاب قرار دیا گیا ہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت 1947 میں آزاد کشمیر کی صورتحال یہ تھی کہ پورے خطے میں 50 کلومیٹر پختہ سڑک بھی موجود نہیں تھی اور ضلع پونچھ جیسے اہم علاقے میں محض ایک ہائی اسکول تھا۔ اس تاریخی پس منظر اور موجودہ دور کا موازنہ کیے بغیر استحصال کا شور مچانا دراصل مثبت حقائق سے مکمل چشم پوشی کا ثبوت ہے۔
محدود وسائل کے باوجود حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں، بنیادی مراکزِ صحت، تحصیل و ضلعی ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ آج آزاد کشمیر میں 5 یونیورسٹیاں اور 3 سرکاری میڈیکل کالج فعال ہیں جو خطے میں اعلیٰ تعلیم اور معیاری علاج معالجے کا روشن ثبوت ہیں۔
اس کے علاوہ خطے میں 20 ہزار کلومیٹر سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جا چکا ہے اور 1 لاکھ 25 ہزار سرکاری ملازمین پر مشتمل ایک منظم نظام چل رہا ہے۔ یہ وسیع انتظامی اور انفراسٹرکچر کا ڈھانچہ آزاد کشمیر کے ترقیاتی استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔
تعلیم، صحت، سڑکوں اور روزگار کے شعبوں میں ہونے والی اس غیر معمولی پیش رفت کو نظرانداز کر کے عوام میں مایوسی پھیلانے کی کوششیں فسادی ایکشن کمیٹی کے منفی پروپیگنڈے کو ظاہر کرتی ہیں۔ عوام میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر حکمران سب کچھ لوٹ گئے تو یہ تعلیمی ادارے، ہسپتال، سڑکیں اور انتظامی ڈھانچہ کس نے تعمیر کیا؟ لہٰذا الزامات کی سیاست کے بجائے ان زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہی سچائی ہے۔





