"> آزاد کشمیر: ترقیاتی حقائق اور استحصال کا بیانیہ

فسادی ایکشن کمیٹی کا 78 سالہ استحصال کا بیانیہ ترقیاتی حقائق کے سامنے بے نقاب

1947 سے اب تک آزاد کشمیر نے تعلیم، صحت اور سڑکوں کے شعبے میں غیر معمولی ترقی کی ہے، جس کے بعد فسادی ایکشن کمیٹی کا 78 سالہ استحصال کا بیانیہ بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔
آزاد کشمیر: ترقیاتی حقائق اور استحصال کا بیانیہ

آزاد کشمیر میں 1947 سے اب تک کی بے مثال ترقی نے 78 سالہ استحصال کا منفی بیانیہ بے نقاب کر دیا ہے۔ 5 یونیورسٹیاں، 3 میڈیکل کالجز اور 20 ہزار کلومیٹر سڑکیں پیش رفت کا ثبوت ہیں۔

October 24, 2026

آزاد جموں و کشمیر میں 1947 سے لے کر اب تک تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تاہم اس شاندار ترقیاتی سفر کے باوجود فسادی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 78 سالہ استحصال کا بیانیہ پیش کیا جا رہا ہے، جسے زمینی حقائق اور خطے کی واقعی ترقی کے سامنے بے نقاب قرار دیا گیا ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت 1947 میں آزاد کشمیر کی صورتحال یہ تھی کہ پورے خطے میں 50 کلومیٹر پختہ سڑک بھی موجود نہیں تھی اور ضلع پونچھ جیسے اہم علاقے میں محض ایک ہائی اسکول تھا۔ اس تاریخی پس منظر اور موجودہ دور کا موازنہ کیے بغیر استحصال کا شور مچانا دراصل مثبت حقائق سے مکمل چشم پوشی کا ثبوت ہے۔

محدود وسائل کے باوجود حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں، بنیادی مراکزِ صحت، تحصیل و ضلعی ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ آج آزاد کشمیر میں 5 یونیورسٹیاں اور 3 سرکاری میڈیکل کالج فعال ہیں جو خطے میں اعلیٰ تعلیم اور معیاری علاج معالجے کا روشن ثبوت ہیں۔

اس کے علاوہ خطے میں 20 ہزار کلومیٹر سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جا چکا ہے اور 1 لاکھ 25 ہزار سرکاری ملازمین پر مشتمل ایک منظم نظام چل رہا ہے۔ یہ وسیع انتظامی اور انفراسٹرکچر کا ڈھانچہ آزاد کشمیر کے ترقیاتی استحکام کو ظاہر کرتا ہے۔

تعلیم، صحت، سڑکوں اور روزگار کے شعبوں میں ہونے والی اس غیر معمولی پیش رفت کو نظرانداز کر کے عوام میں مایوسی پھیلانے کی کوششیں فسادی ایکشن کمیٹی کے منفی پروپیگنڈے کو ظاہر کرتی ہیں۔ عوام میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر حکمران سب کچھ لوٹ گئے تو یہ تعلیمی ادارے، ہسپتال، سڑکیں اور انتظامی ڈھانچہ کس نے تعمیر کیا؟ لہٰذا الزامات کی سیاست کے بجائے ان زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہی سچائی ہے۔

متعلقہ مضامین

سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے پاکستان مخالف بیانات دراصل ان کے اپنے ناکام طالبان معاہدے اور تباہ شدہ سفارتی کیریئر کو بچانے کی ایک کوشش ہیں۔

October 24, 2026

افغانستان کے 7 صوبوں میں مختلف مزاحمتی گروہوں کی 10 کارروائیوں میں طالبان کے 13 اہلکار ہلاک اور متعدد فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

October 24, 2026

پنجگور کے دو کم عمر بھائیوں نے دہشت گرد تنظیم سے لاتعلقی اور سرنڈر کا اعلان کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں ٹک ٹاک کے ذریعے رابطے کے بعد پیسوں کا لالچ دیا گیا۔

October 24, 2026

پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے مشرق وسطیٰ میں سفارتی کوششیں جاری رکھنے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور فلسطین میں دو ریاستی حل پر زور دیا۔

October 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *