پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مذہبی جذبات اور عوامی ہمدردیوں کو ذاتی و خاندانی مفادات کے لیے استعمال کرنے کی مثالیں نئی نہیں ہیں، لیکن جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن کا رویہ اس کھیل کی ایک نمایاں اور افسوسناک ترین تصویر پیش کرتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا خاتمہ جب پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت کے قیام پر منتج ہوا، تو قوم نے دیکھا کہ جو لیڈر کبھی نظام کی تبدیلی اور جمہوریت کی بحالی کے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے تھے، اقتدار کی بندر بانٹ ہوتے ہی ان کا اصل روپ سامنے آ گیا۔ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو عوامی فلاح کے بجائے خاندانی اور ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی تاریخ میں ایک نئے اور بدعنوان باب کا اضافہ اس وقت ہوا جب وفاقی وزراتوں کا قلمدان مولانا کے اپنے گھر تک محدود کر دیا گیا۔
پی ڈی ایم حکومت کے دور میں جب مولانا کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کو وفاقی وزیر مواصلات بنایا گیا، تو یہ وزارت عوام کی خدمت کے بجائے خاندانی اور اقربا پروری کی آماجگاہ بن کر رہ گئی۔ وزراتِ مواصلات، جس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھانا، زیرِ التوا ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنا اور شفافیت قائم رکھنا ہوتا ہے، اس دور میں تاریخی کرپشن اور بدعنوانی کا شکار ہوئی۔ میرٹ کو بالکل بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے پسندیدہ اور غیر متعلقہ افراد کو اہم عہدوں اور بھرتیوں سے نوازا گیا، بلکہ محکمے کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا۔
ترقیاتی کام بالکل ٹھپ ہو کر رہ گئے اور عوامی فنڈز کو جن بے دردی سے ضائع کیا گیا، اس کی مثال حالیہ تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ قوم دیکھتی رہ گئی کہ جس وزارت سے ملک کو معاشی اور انفراسٹرکچر کا فائدہ پہنچنا تھا، وہ صرف خاندانی نوازشات کا ذریعہ بن کر رہ گئی۔
کرپشن اور اقربا پروری کا یہ باب صرف مالی بدعنوانی تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ اپنے ساتھیوں، رفقائے کار اور جماعت کے مخلص کارکنوں کے ساتھ ان کا رویہ اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا ہے۔ اسی اقتدار کے دور میں مولانا کی اپنی جماعت کے ایک اہم وزیر (شہید مفتی عبد الشکور رح کو نشانہ بنایا گیا اور وہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ایک ایسی جماعت جو خود کو اخوت کی علمبردار کہتی ہے، اس کے قائدین کی ترجیح یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ اپنے اس شہید ساتھی کے لیے نا صرف انصاف کی جنگ لڑتے، بلکہ ان کے خاندان کی سرپرستی اور دیکھ بھال کو اپنی پہلی ترجیح بناتے۔
مگر وقت نے ثابت کیا کہ اپنے مخلص ترین ساتھی کی قربانی بھی ان قائدین کے لیے محض ایک سیاسی واقعہ تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنے اس شہید رہنما کے خاندان کے لیے کچھ نہ کیا۔
آج جے یو آئی (ف) کے مخلص کارکنان، جنہیں برسوں سے اسلام اور قانون کی بالادستی کے نام پر سڑکوں پر لایا گیا، اپنے قائدین سے سخت سوالات پوچھ رہے ہیں۔ جماعت کے ارکان اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جن قربانیوں کا درس انہیں دیا جاتا رہا، ان کا صلہ کس کو ملا؟
کارکنان آج سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کی جدوجہد کا حاصل صرف مولانا کے صاحبزادوں کو وزارتیں دلوانا اور خاندانی اقتدار کو مضبوط کرنا ہی کیوں تھا؟ وہ پوچھتے ہیں کہ ان کے اپنے مسائل، ان کے علاقے کی غربت اور جماعت کے شہید ہونے والے رہنماؤں کا بدلہ اور پرسانِ حال کہاں ہے؟ ان سوالات نے مولانا فضل الرحمن کے اس بیانیے کی قلعی کھول دی ہے جس کی آڑ میں وہ دہائیوں سے سیاست کرتے چلے آ رہے ہیں۔
ان تمام حقائق سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں اور ثابت ہو جاتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی تمام تر سیاسی جدوجہد، تحاریک اور سرگرمیاں کسی دینی مقصد، عوامی فلاح یا جماعت کی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ محض ان کے اپنے خاندان کی خوشحالی کے لیے تھیں۔
انہوں نے ہمیشہ یہ تاثر دیا کہ وہ جماعت اور عوام کے خادم ہیں، مگر ان کے اقدامات نے یہ واضح کر دیا کہ ان کے نزدیک جماعت اور عوام کی حیثیت صرف ان کے خاندانی اقتدار اور مفادات کا ایندھن بننے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم اور جماعت کے غیور کارکنان اس حقیقت کو پہچانیں اور خاندانی سیاستدانوں کے ان ہتھکنڈوں کو مسترد کر دیں جو دین اور عوام کا نام لے کر صرف اپنے شیش محل تعمیر کرتے ہیں۔





