خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کے لیے بڑا انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے سابق فاٹا کے تمام اہم ڈائریکٹوریٹس اور اداروں کا کنٹرول ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کو منتقل کر دیا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس منتقلی کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد یہ نیا انتظامی نظام 12 نامزد اضلاع کا نظم و نسق سنبھالے گا۔
یہ اقدام 2018 میں سابق فاٹا کے صوبے میں انضمام کے بعد قائم ہونے والے ساخت میں ایک انتہائی اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی سے ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی عمل اور حکومتی امور میں نمایاں تحرک آنے کی توقع ہے۔
اس انتظامی منتقلی کے تحت تعلیم، زراعت، آب پاشی، جنگلات، سماجی بہبود، بلدیاتی حکومت، صنعت، معدنیات، اطلاعات اور امن و امان جیسے اہم شعبے شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فاٹا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بھی اسی سیکریٹریٹ کے تحت لایا گیا ہے۔
نظام کو موثر طریقے سے چلانے کے لیے گریڈ 17 سے 20 تک کی 30 اہم آسامیاں عارضی طور پر سیکریٹریٹ کو منتقل کی گئی ہیں۔ ان میں 5 اسپیشل سیکریٹریز، 10 ڈپٹی سیکریٹریز اور 15 سیکشن افسران بمع معاون عملہ شامل ہیں۔
امن و امان اور سکیورٹی امور کی بہتر دیکھ بھال کے لیے 12 اضلاع میں چیف پولیس افسر کا نیا دفتر قائم کر دیا گیا ہے۔ اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے تاکہ تمام اداروں میں رابطہ کاری مضبوط ہو سکے۔
منتقلی کے عمل میں تمام اداروں کے فرائض، ریکارڈز، اثاثے اور ضروری آلات شامل کیے گئے ہیں۔ عوامی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ محکموں کی مشاورت سے بجٹ اور آسامیوں میں ضروری ردوبدل جاری رہے گا۔
اس نئے انتظامی نظام کا بنیادی مقصد فیصلہ سازی کے عمل کو تیز بنانا اور جواب دہی کا شفاف طریقہ کار قائم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ سول اور سکیورٹی اداروں کے درمیان مربوط تعاون کو یقینی بنایا جائے گا۔
حکومت کا مقصد متاثرہ آبادی کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور علاقائی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ ان اقدامات سے نامزد اضلاع میں بنیادی سہولیات کی بروقت فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد میں تیزی آئے گی۔





