افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کے الزامات کی تردید کے بعد یہ سوالات شد و مد سے اٹھائے جا رہے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی تصدیق کیوں کی گئی ہے۔ پاکستان میں متواتر ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جن میں افغان شہری دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
ترجمان کے اس موقف پر کہ طالبان حکومت بیرونِ ملک عدم استحکام پیدا کرنے کے مالی وسائل نہیں رکھتی، یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک بالخصوص بھارت کے مالی مفادات اس صورتِ حال سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ملک کے خلاف دباؤ کی پالیسی انتہائی نادانستہ ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کے اس بیان پر کہ پاکستان میں عدم استحکام خود افغانستان کے لیے نقصان دہ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو محض زبانی حد تک محدود رہنے کے بجائے ایک ذمہ دار پڑوسی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان کے مطالبات پر الزام تراشی کے بجائے افغان سرزمین کو غیر ملکی عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے سے روکنا ہی خطے میں دائم امن کا واحد راستہ ہے۔





