میرپورخاص کے تعلقہ حسین بخش مڑی کے علاقے رام نگر میں مبینہ طور پر نابالغ لڑکی مدھو کے اغوا کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ حقائق کے مطابق یہ اغوا یا جبری کا معاملہ نہیں بلکہ دو ہندو افراد کے درمیان اپنی مرضی اور پسند کی شادی کا واقعہ ہے۔
لڑکی کے والدین کی جانب سے ۱۶ سالہ نابالغی اور اغوا کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جبکہ درحقیقت مدھو قانونی طور پر بالغ ہے اور اس نے بغیر کسی دباؤ کے اپنے ہوش و حواس میں اپنے پڑوسی کیلاش ولد کانجی سے شادی کا فیصلہ کیا۔
اس معاملے میں کسی قسم کی جبری تبدیلیٔ مذہب یا اسلامی عناصر کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، کیونکہ لڑکا کیلاش خود ہندو مذہب سے تعلق رکھتا ہے۔ پسند کی شادی کے اس معاملے کو والدین نے ذاتی انا کی خاطر اغوا کا رنگ دیا جس سے غیر ضروری سنسنی پھیلی۔
پاکستان دراور اتحاد اور دیگر متعلقہ تنظيموں کو اس حساس معاملے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پسند کی ہر شادی کو جبری یا زبردستی کا معاملہ قرار دینا اور بلا تصدیق خبریں آگے بڑھانا معاشرے میں مذہبی اور سماجی انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔
سندھی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کو نشر کرنے سے قبل اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تصدیق لازمی کریں تاکہ غیر ذمہ دارانہ صحافت اور افواہوں کا سدِ باب ہو سکے۔





