آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے کوٹھیان میں جاری احتجاجی دھرنے کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں نوجوان احسان اختر شدید زخمی ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق، متاثرہ نوجوان اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ دھرنے کے مقام پر موجود تھا کہ اسی اثنا میں ایک ساتھی کے پسٹل سے غیر ذمہ دارانہ انداز میں اچانک گولی چل گئی۔
واقعے کے فوراً بعد دھرنے کے منتظمین مقامی ہسپتال یا پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے زخمی کو راولپنڈی لے گئے، جس سے معاملے کی نوعیت پر گہرے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
واقعے کے فوراً بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے اس حادثاتی واقعے کو سیاسی رنگ دینے اور عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے سوشل میڈیا پر گمراہ کن پراپیگنڈا شروع کر دیا۔ ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ نام نہاد دعویٰ کیا گیا کہ نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے۔
تاہم، سرکاری و سیکیورٹی ذرائع نے اس قسم کی تمام افواہوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ایسی کوئی نقل و حرکت تھی اور نہ ہی ان کی طرف سے کوئی فائرنگ کی گئی۔
عوام میں اشتعال پھیلانے اور صورتحال کو خراب کرنے کی یہ کوشش ایکشن کمیٹی کی جانب سے حقائق کو مروڑنے کی پرانی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ ہتھیاروں کی نمائش اور غیر ذمہ دارانہ استعمال سے اپنے ہی کارکن کو زخمی کرنے کے بعد الزام سیکیورٹی اداروں پر دھرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے پاس کوئی قانونی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔





