فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران پیرس اور مارسیے سمیت متعدد شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی، جبکہ مزدور تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دگنی تھی۔
حکام نے بدامنی اور لوٹ مار روکنے کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے ارکان تعینات کیے۔
پیرس کے جنوب مشرقی علاقے میں ہونے والے مرکزی مظاہرے میں کم از کم ایک لاکھ 10 ہزار افراد شریک ہوئے۔ مظاہرہ ختم ہونے کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی، جس پر پولیس نے نقاب پوش نوجوانوں کے ایک گروہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
مارسیے میں مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں، کچرے کے ڈبوں کو آگ لگائی اور سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔ پولیس کے مطابق شہر میں متعدد دکانوں کو لوٹ لیا گیا، جن میں زیورات کی دو دکانیں بھی شامل ہیں۔
فرانس کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج کے دوران جھڑپیں ہوئیں۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے الزام عائد کیا کہ انتہا پسند بائیں بازو کے کارکن اور جرائم پیشہ گروہ مظاہروں کو پُرتشدد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی یونیورسٹی کے قریب فائرنگ
امریکی ریاست فلوریڈا میں فلوریڈا اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے قریب فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے 11 کو گولیاں لگی ہیں۔
حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ یونیورسٹی کے بریگ اسٹیڈیم کے قریب پیش آیا۔ واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 12 بتائی گئی ہے۔





