امریکی خبر رساں ادارے سی این این کی جانب سے افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر نشر کی جانے والی ایک حالیہ دستاویزی فلم نے خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے چیلنجز پر چند تلخ اور تشویشناک حقائق کو ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
اس رپورٹ نے نہ صرف سنہ 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے اور امریکی انخلا کے بعد سے پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو بے نقاب کیا ہے، بلکہ افغان طالبان کے رویے، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات، امریکی اسلحے کے غلط استعمال اور پاکستان کی اندرونی و خارجی پالیسیوں کے نتائج کا بھی باریک بینی سے احاطہ کیا ہے۔
دستاویز میں شامل تحقیقات کے مطابق امریکی فورسز کی واپسی کے وقت سابق افغان حکومت کو فراہم کردہ حساس اور جدید ہتھیار اب ٹی ٹی پی کے ملیشیاؤں کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔ تحقیقات میں سیریل نمبرز اور باقاعدہ امریکی سرکاری نشانات سے لیس ان رائفلوں اور دیگر عسکری آلات کا سراغ لگایا گیا ہے جو پاکستان کے اندر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں مسلسل استعمال ہو رہے ہیں۔
افغان حکومت کے اچانک زوال کے بعد اتنے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی پھیلاؤ نے سرحد پار دہشت گردی کو زیادہ مہلک اور منظم بنا دیا ہے، جس کے براہِ راست خونی نتائج پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
اس عالمی رپورٹ نے یہ سنگین نقطہ بھی اٹھایا ہے کہ ماضی کی پالیسیوں اور عسکریت پسند گروہوں کی سرپرستی کے تلخ اثرات آج تاریخ کی تکرار کی صورت میں پاکستان کے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔ جس طرح 80ء کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف جن گروہوں کی پاکستان اور امریکہ نے معاونت کی، وہ بعد میں القائدہ کی شکل اختیار کر کے 9/11 کے واقعات کے بعد خود امریکہ اور خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے، بالکل اسی طرح افغان طالبان کی ماضی میں کی جانے والی میزبانی کے اثرات اب پاکستان کے لیے ابھر رہے ہیں۔
پاکستان کے دفاعی وزیر خواجہ آصف نے بھی سی این این کی اس دستاویزی فلم میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف نبرد آزما افغان طالبان کے موجودہ کمانڈرز اور عہدیدار ماضی میں کئی سالوں تک پاکستان میں پناہ گزین رہے، جب کہ ان کے خاندان اور جائدادیں آج بھی پاکستان کے اندر موجود ہیں۔
پاکستان کی اس اسٹریٹجک سوچ کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے جس کے تحت وہ کابل میں ایک دوست حکومت کے قیام کی امید رکھتا تھا تاکہ مغربی سرحد محفوظ رہے اور بھارت کے مقابلے میں تزویراتی سکون حاصل ہو۔ تاہم افغان طالبان کا پاکستان مخالف ملیشیاؤں بالخصوص ٹی ٹی پی کو اپنی سر زمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا اور ان کے خلاف کارروائی سے گریز کرنا اس حکمتِ عملی کی ناکامی کا سبب بنا ہے۔
کابل میں طالبان کے آنے کے بعد سے پاکستان کے سرحدی علاقوں کے علاوہ بڑے شہروں میں بھی دہشت گردانہ حملوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جہاں 2025 کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، جب کہ حالیہ بم دھماکوں اور اسلام آباد کے عدالتی کمپاؤنڈ پر حملے نے دارالحکومت تک میں شدید خوف اور عوامی تشویش پھیلا دی ہے۔
دہشت گردی کے اس ابھار نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو اس حد تک کشیدہ کر دیا ہے کہ فروری 2026 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان زبردست ملٹری اسٹرائیکس اور کھلی فوجی جھڑپیں بھی دیکھنے کو ملیں۔ اس کے ساتھ ہی، سفارتی محاذ پر ایک نیا اور منفرد موڑ سامنے آیا ہے جہاں نئی دہلی اور کابل کے درمیان سیاسی و سفارتی قربتیں بڑھ رہی ہیں۔ ماضی میں کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملوں کے باوجود، بھارت اب افغان طالبان کے ساتھ باقاعدہ رابطے استوار کر رہا ہے اور اس نے ترقیاتی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔
پاکستان یقیناً بھارتی اثر و رسوخ کے اس بحالی کو شدید تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس بات کا الزام عائد کرتا ہے کہ بھارت افغان سرزمین کے ذریعے ٹی ٹی پی کو مالی و لاجسٹک معاونت فراہم کر کے پاکستان میں تخریب کاری کو ہوا دے رہا ہے۔
اس تمام تر سیاسی اور سیکیورٹی دلدل کے بیچ افغانستان کے اندرونی حالات، انسانی حقوق اور تباہ حال معیشت کا منظر نامہ مزید ہولناک ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان اس وقت انسانی حقوق کا قبرستان بن چکا ہے، جہاں طالبان نے خواتین پر تعلیم اور ملازمت کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔
طویل خشک سالی، سخت ترین غربت اور معاشی بائیکاٹ نے ایک تہائی سے زائد آبادی کو خوراک کی شدید قلت سے دوچار کر دیا ہے، جب کہ تنہا 2026 کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 3.7 ملین بچوں کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سی این این کی یہ دستاویزی فلم پاکستان کے لیے ایک واضح اور واضح سائرن کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ وقت ماضی کی غلط سیاسی و اسٹریٹجک غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایک نئی، سخت اور حقیقت پسندانہ افغان پالیسی مرتب کرنے کا ہے۔
پاکستان کو اپنی داخلی سیکیورٹی، بارڈر مینجمنٹ اور دہشت گردی کے خلاف بغیر کسی تفریق کے سخت ترین موقف اپنانا ہو گا، کیونکہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کو نکیل نہ ڈالنا اور بین الاقوامی برادری کا افغانستان کے انسانی بحران پر خاموش تماشائی بنے رہنا پورے خطے کے لیے ایک خطرناک تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔





