"> یومِ سیاہ کشمیر 27 اکتوبر

اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا حریف کون اور یہ مقابلہ اتنا اہم کیوں؟

اسرائیل میں آج پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ نیتن یاہو کا مقابلہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ سے ہے۔ جانیے یہ مقابلہ کتنا سخت ہے، مہم میں کون سے مسائل چھائے رہے اور عرب جماعتیں حکومت سازی میں کیسے فیصلہ کن ہو سکتی ہیں۔

کشمیر کی تاریخ کا یومِ سیاہ

بھارتی افواج کے سری نگر میں داخلے کو 79 سال مکمل ہو گئے، جس کے خلاف کشمیری یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔ یہ تحریر غیر قانونی قبضے، عالمی بے حسی اور حقِ خودارادیت کا احاطہ کرتی ہے۔
یومِ سیاہ کشمیر 27 اکتوبر

کشمیر پر بھارتی فوجی غصب کے 79 سال، تقسیمِ برصغیر کے اصولوں کی خلاف ورزی اور کشمیریوں کے یومِ سیاہ پر حقِ خودارادیت کا مکمل تجزیاتی جائزہ۔

October 27, 2026

تاریخ کے صفحات میں کچھ دن صرف تاریخ نہیں ہوتے، بلکہ کسی قوم کے سلب شدہ حقوق، ادھورے خوابوں اور مسلسل جدوجہد کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ 27 اکتوبر 1947ء کا دن جموں و کشمیر کے غیور اور مظلوم عوام کے لیے ایک ایسا ہی تازیانہ ہے۔ یہی وہ بدقسمت دن تھا جب بھارتی افواج نے برصغیر کی تقسیم کے بنیادی اصولوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے سری نگر کے ہوائی اڈے پر قدم رکھا اور وادیِ کشمیر کو اپنے فوجی تسلط میں لے لیا۔

مہاراجہ ہری سنگھ کے متنازع اور غاصبانہ فیصلے کی آڑ میں شروع ہونے والا یہ جبر آج 79 سال گزرنے کے بعد بھی قائم ہے، اور اسی لیے دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس دن کو “یومِ سیاہ” کے طور پر منا کر عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں۔

تقسیمِ برصغیر کے وقت یہ اصول طے پایا تھا کہ ریاستیں اپنے جغرافیائی موقع اور مسلم اکثریت کی بنیاد پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔ لیکن کشمیر، جس کی روح، ثقافت، جغرافیہ اور آبادی کا دباؤ قدرتی طور پر پاکستان سے جڑا تھا، پر شب خون مارا گیا۔ 26 اکتوبر کی رات ہونے والی چالبازیوں اور اگلے ہی روز 27 اکتوبر کو بھارتی سنگینوں کی آمد نے وادی کا امن و سکون ہمیشہ کے لیے غارت کر دیا۔

اس دن کے بعد سے وادیِ کشمیر ایک ایسی کھلی جیل میں تبدیل ہو گئی جہاں حقِ خودارادیت کی بات کرنے پر گولیوں کی بوچھاڑ اور جیل کی سلاخیں ملتی ہیں۔ اٹھتر برس گزر جانے کے باوجود نہ تو کشمیریوں کی آزادی کی تڑپ میں کمی آئی ہے اور نہ ہی بھارتی ریاست کے جبر میں کوئی نرمی دکھائی دی ہے۔

اس دن کی یاد میں نہ صرف مقبوضہ وادی بلکہ آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا کے تمام بڑے دارالحکومتوں میں کشمیری اور انصاف پسند لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر وادی میں مکمل ہڑتال، مظفرآباد سے لائن آف کنٹرول کی جانب مارچ اور ہٹیاں بالا جیسے علاقوں میں احتجاجی سرگرمیاں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ جبر کی کوئی بھی تلوار کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو کاٹ نہیں سکتی۔

دنیا کے مختلف کونوں میں نکلنے والی یہ ریلیاں عالمی برادری کو اقوامِ متحدہ کی ان قراردادوں کی یاد دہانی کراتی ہیں جن پر دھول جم چکی ہے، حالانکہ ان میں کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا تھا۔

کشمیر اور پاکستان درحقیقت ایک ہی جسم کی مانند ہیں۔ اگر وادیِ کشمیر میں کسی ایک کشمیری پر بھی بھارتی فورسز کی جانب سے ظلم، تشدد اور بربریت ہوتی ہے، تو اس کا درد سرحدپار محسوس ہوتا ہے اور وہ تڑپ گویا پورے پاکستان اور ہر پاکستانی پر بیتی ہوئی قیامت کے مترادف ہوتی ہے۔

یہ وہ رشتہ ہے جسے نہ تو کنٹرول لائن کی باربڈ وائر جدا کر سکتی ہے اور نہ ہی دہائیوں پر محیط ریاستی جبر کمزور کر سکتا ہے۔ جب تک مقبوضہ وادی میں مظلوموں کا خون بہتا رہے گا، پاکستانی عوام کے دل ان کے ساتھ دھڑکتے رہیں گے اور ان کی تڑپ کو اپنی تڑپ سمجھتے رہیں گے۔

کشمیر کا مسئلہ محض کوئی سرحدی یا سیاسی نزاع نہیں ہے، بلکہ یہ لاکھوں انسانوں کے بنیادی حقوق، نسلوں کی قربانیوں اور حریت پسند شہدا کی داستان ہے۔ ہزاروں کشمیریوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں، ان کی حریت قیادت گمنام جیلوں میں قید کاٹ رہی ہے، مگر وادی کے بچوں اور جوانوں کے سینوں میں آزادی کی شمع آج بھی پہلے سے زیادہ روشن ہے۔

بھارت کا ہر ناکام اقدام اور ہر نیا ظلم کشمیریوں کے اس یقین کو اور پختہ کر دیتا ہے کہ ظلم کی رات چاہے جتنی بھی لمبی اور تاریک ہو، سحر کا طلوع ہونا اٹل ہے۔ 27 اکتوبر کا یومِ سیاہ صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ دنیا سے یہ سوال ہے کہ آخر کب تک انسانی حقوق کے عالمی علمبردار خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

متعلقہ مضامین

نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں تین مسلح افراد کی فائرنگ سے 3 طالبات زخمی ہوگئیں۔ ایڈمن آفیسر کے مطابق ملزمان نے پرنسپل کے دفتر میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

October 27, 2026

فخرہ یونس تیزاب حملہ کیس پر یورپی یونین کے سخت نوٹس اور راجہ فاروق حیدر کی سیاست پر اٹھتے سوالات کے حوالے سے اہم خبر۔

October 27, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تہران اجلاس میں سعودی عرب کی صورتِ حال پر بات ہوئی اور معاہدے کے تحت پاکستان پر بھی سعودی عرب کا دفاع لازم ہے۔

October 27, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان آج ملاقات کریں گے۔ پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور قیمتوں میں ریلیف کی تجاویز زیرِ بحث آئیں گی۔

October 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *