راجہ فاروق حیدر الیکشن میں شکست کے بعد سے مسلسل حکومتی اداروں پر تنقید اور پروپیگنڈا کرتے نظر آ رہے ہیں۔ تاہم، دوسری جانب ان کے اپنے خاندانی معاملے اور داماد سے جڑے متنازع ماضی نے ان کی سیاسی و اخلاقی پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بین الاقوامی ویمنز رائٹس کمیشن نے مرحومہ فخرہ یونس پر ہونے والے ہولناک تیزاب حملے اور انصاف کی فراہمی میں ہونے والی طویل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیس کا دوبارہ جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مئی 2000ء میں کراچی میں فخرہ یونس پر مبینہ طور پر ان کے اس وقت کے شوہر اور راجہ فاروق حیدر کے داماد بلال مصطفیٰ کھر نے تیزاب پھینکا تھا، جس سے ان کا چہرہ اور جسم شدید متاثر ہوا تھا۔
بعد ازاں دسمبر 2003 میں کراچی کی ایک عدالت نے مبینہ طور پر گواہوں پر دباؤ اور خوف و ہراس کے باعث ملزم بلال مصطفیٰ کھر کو کیس سے بری کر دیا تھا، جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے انصاف کی ناکامی قرار دیا تھا۔
اب یورپی یونین نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تناظر میں خبردار کیا ہے کہ اگر اگلی 30 دنوں کے اندر اس کیس پر شفاف اور غیر جانبدارانہ عدالتی کارروائی کا آغاز نہ ہوا تو پاکستان کو حاصل تجارتی مراعات کے خلاف سخت اقدامات کی سفارش کی جا سکتی ہے۔





