پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور اور مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے اس اختیار کو ختم کرنے یا اس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے قونصلر اور سیاسی رابطہ کار گل قیصر سروانی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ویٹو پاور کا غلط استعمال سلامتی کونسل کی مؤثریت اور اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مقصد ادارے کو زیادہ مؤثر، منصفانہ اور جوابدہ بنانا ہونا چاہیے۔
ویٹو پاور میں اضافہ
گل قیصر سروانی نے بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں حاصل کرنے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقل ارکان اور ویٹو اختیارات میں اضافہ عالمی نظام میں موجود عدم مساوات کو مزید گہرا کرے گا۔
ان کے مطابق اس سے طاقت کے نئے مراکز پیدا ہوں گے اور سلامتی کونسل کے فیصلوں میں تعطل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان اور اٹلی کی قیادت میں قائم گروپ یونائٹنگ فار کنسینسس سلامتی کونسل میں کسی بھی نئے ملک کو انفرادی طور پر مستقل رکن بنانے کی مخالفت کرتا ہے۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ ویٹو پاور ختم کی جانی چاہیے یا کم از کم اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد ہونی چاہییں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے منتخب ارکان کی تعداد اور کردار بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی۔
ان کے مطابق منتخب ارکان کی بہتر نمائندگی اور فیصلوں کی منظوری کے لیے درکار حمایت کی حد میں تبدیلی سے کونسل کو زیادہ جمہوری بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 76/262 کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ اپریل 2022 میں منظور ہونے والی اس قرارداد کے تحت سلامتی کونسل میں ویٹو استعمال ہونے کے بعد جنرل اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا ہے تاکہ اس اقدام پر بحث ہو سکے۔
گل قیصر سروانی نے واضح کیا کہ ویٹو کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے اقدامات اقوام متحدہ کے منشور کی متعلقہ دفعات سے مطابقت رکھنے چاہییں۔





