اردن کی فضائیہ نے جنوبی شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں، جن میں شامی حکام کے مطابق 3 بچوں اور ایک خاتون سمیت 7 افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں کے بعد شام نے اردن کے ساتھ اپنی واحد مسافر اور تجارتی سرحدی گزرگاہ نصیب بند کردی ہے۔
اردنی حکام کے مطابق فضائی حملوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی اردن کے شہر کرک میں ایک چرچ پر حملے کے بعد کی گئی، جس کے مشتبہ ملزمان کے جنوبی شام میں سرگرم شدت پسند گروہوں سے روابط کا سراغ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اردن کی کارروائی
اردن میں 23 اکتوبر کو کرک کے علاقے میں سینٹ جارج آرتھوڈوکس چرچ پر حملہ ہوا تھا۔ اردنی وزارت صحت کے مطابق اس واقعے میں 9 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے تھے۔
اردنی حکام کا کہنا ہے کہ شام کی حکومت سے رابطے کے بعد فضائی کارروائی کی گئی۔ اردنی وزیر مواصلات کے مطابق حملوں کے دوران ان مقامات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا جہاں شہریوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں۔
تاہم شامی حکام کے مطابق حملوں میں شہری بھی ہلاک ہوئے۔ شام کی سول ڈیفنس سروس کی ابتدائی رپورٹ میں درعا اور سویدا کے دیہی علاقوں میں چار مقامات کو نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
سرحدی گزرگاہ بند
شامی وزارت خارجہ نے اردن کی جانب سے پیشگی رابطہ کاری کے بغیر فوجی کارروائی کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وزارت نے فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
شام کی جنرل اتھارٹی برائے سرحدی امور و کسٹمز کے مطابق درعا کی صورتِ حال کے پیش نظر نصیب سرحدی گزرگاہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں دونوں سمتوں میں مسافروں اور تجارتی سامان کی آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔
اردنی سکیورٹی حکام کے مطابق چرچ حملے کے سلسلے میں تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد میں دو بھائی اور ان کا بہنوئی شامل ہیں۔
اردنی حکام کے مطابق مشتبہ افراد نے گرفتاری کے وقت مزاحمت کی، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ تینوں افراد زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے۔





