بلومبرگ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ، امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے متعدد افغان شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کو امریکہ سے پاکستان منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، امیگریشن حراستی مراکز میں موجود بعض افغانوں کو اس متوقع منتقلی کے حوالے سے مطلع بھی کیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے بعد یہ اہم سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ اقدام سابق افغان اتحادیوں کی قدر دانی اور قدرتی آبادکاری کا حصہ ہے، یا پھر یہ خطے کی مستقبل کی سیاسی و دفاعی حکمتِ عملی کا کوئی نیا فریم ورک ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ان سابق افغان کمانڈوز اور سکیورٹی فورسز کو دوبارہ منظم کر کے کسی پراکسی کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات پاکستان اور افغانستان دونوں کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اسے سنسنی خیز بنا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ مغربی ممالک سے افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی ایک معمول کا عمل ہے، اور یہ توقع رکھنا غیر حقیقی ہوگا کہ امریکہ میں مقیم افغان شہری دوبارہ کسی جنگی میدان کا رخ کریں گے۔





