"> متقی کا دعوی غلط ثابت اففان منشیات کے اربوں ڈالر

متقی کے دعوے جھوٹے ثابت: افغان منشیات کے اربوں ڈالر نے طالبان کو بے نقاب کر دیا

امیر خان متقی کا منشیات پر بیان طالبان کے دہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ اربوں ڈالر کی افیون اور مصنوعی منشیات میں طالبان خود ملوث ہیں۔
متقی کا دعوی غلط ثابت اففان منشیات کے اربوں ڈالر

متقی کا بیان منشیات پر طالبان کی ناکامی اور اسمگلنگ میں ان کی براہِ راست شمولیت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے۔

October 27, 2026

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے منگل کے روز منشیات کے خلاف ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس مسئلے کی ذمہ داری پڑوسی ممالک اور عالمی برادری پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منشیات کا خاتمہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مشترکہ ٹیمیں بنانے کی پیشکش کی، تاکہ اس معاملے کو سیاسی مفادات کے بجائے تکنیکی بنیادوں پر دیکھا جائے۔

حقائق اور اعداد و شمار امیر خان متقی کے ان دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ منشیات کا مسئلہ افغانستان میں کہیں باہر سے درآمد نہیں ہوتا، بلکہ افغانستان ہی دنیا بھر میں غیر قانونی افیون کی کل طلب کا تقریباً 80 فیصد پورا کرتا رہا ہے۔ طالبان کو حکومت سنبھالتے ہی منشیات کی کاشت، تیاری، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کا ایک پورا بنیادی ڈھانچہ ورثے میں ملا، جس سے اب بھی تمام پڑوسی ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

اگرچہ 2023 میں پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد اس کی پیداوار میں 95 فیصد کمی دیکھی گئی، لیکن اس کے باوجود افیون کے 13 ہزار 200 ٹن ذخائر برقرار رہے۔ یہ ذخائر 2027 تک عالمی منڈی کو افغان افیون فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسمگلنگ کا بنیادی نظام اب بھی مکمل طور پر فعال ہے۔

پوست پر پابندی نے درحقیقت طالبان حکومت کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچایا۔ 2022 میں خشک افیون کی قیمت 75 ڈالر فی کلوگرام تھی جو 2024 میں بڑھ کر 750 ڈالر فی کلوگرام ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں افیون کے ذخائر کی مجموعی مالیت 4.6 سے 5.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 23 سے 29 فیصد کے برابر ہے۔

طالبان حکومت منشیات کے اس پورے نیٹ ورک سے منظم انداز میں مالی آمدن حاصل کر رہی ہے۔ کاشت پر 5 سے 7 فیصد تک عائد کیے جانے والے محصولات، اسمگلنگ کے راستوں پر وصولیاں اور تحفظ کی فراہمی کے عوض حاصل ہونے والی رقم براہِ راست طالبان حکام کی جیبوں میں جا رہی ہے۔ خاص طور پر نیمروز کا راستہ ان کے لیے منافع بخش ذریعہ بنا ہوا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سنگین کے شرافت بازار میں فروخت ہونے والی 70 فیصد افیون کی ملکیت مقامی طالبان کمانڈروں اور اعلیٰ عہدیداروں کے پاس ہے۔ طالبان حکام منشیات کے خاتمے کے دعویدار نہیں بلکہ منڈی کے بڑے تاجر ہیں، جنہوں نے قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے کے لیے افیون کی بڑی مقدار خرید کر ذخیرہ کر رکھی ہے۔

پوست پر پابندی کے بعد پیداوار کا رخ مصنوعی منشیات کی تیاری کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ اس وقت افغانستان بھر بالخصوص ہلمند، فراہ، ہرات اور نیمروز میں تقریباً 5 ہزار لیبارٹریاں کام کر رہی ہیں۔ ان لیبارٹریوں کے لیے کیمیائی مواد بھارت اور جنوبی کوریا سے منگوایا جاتا ہے، جبکہ طالبان کمانڈرز ایفیڈرا کی پیداوار اور نقل و حمل کی اجازت دے کر بھاری رقوم بٹور رہے ہیں۔

افغانستان سے تیار ہونے والی منشیات ایران، ازبکستان، ترکمانستان اور سہ ملکی سرحدی علاقوں سے ہوتی ہوئی مکران کی ساحلی پٹی تک پہنچائی جاتی ہیں، جہاں سے انہیں ترکیہ اور دیگر عالمی منڈیوں میں ترسیل کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس نے سری لنکا بھیجی جانے والی 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کی 463 کلوگرام افغان کرسٹل میتھ ضبط کر کے عالمی سطح پر طالبان کی اسمگلنگ کو بے نقاب کیا ہے۔

منشیات کی اس کثیر آمدن نے طالبان حکومت کے اندر شدید اختلافات اور مسلح تصادم کو جنم دیا ہے۔ 23 اکتوبر 2026 کو قندھار کے سابق پولیس چیف مولوی عبدالاحاد طالب نے 100 مسلح اہلکاروں کے ساتھ ہلمند کی سرحدی فورسز پر حملے کی کوشش کی، تاکہ منشیات سے بھری 8 گاڑیاں چھڑائی جا سکیں۔ اس خونریز جھڑپ میں 9 طالبان اہلکار ہلاک اور 16 زخمی ہوئے۔

تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ منشیات سے بھری یہ گاڑیاں حاجی لعل جان اسحاق زئی کی تھیں، جو سنگین میں منشیات کی فیکٹریاں چلاتا ہے اور طالبان کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اس کے گہرے سیاسی و خاندانی تعلقات ہیں۔ اس واقعے نے طالبان حکومت کے اندر موجود ان طاقتور شبکوں کا پردہ چاک کر دیا ہے جو منشیات کے بدنام اسمگلروں کو سرکاری سرپرستی فراہم کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی جاری ہے۔

October 27, 2026

پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر حافظ نعیم الرحمان کا نومبر کے وسط میں اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان، حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ۔

October 27, 2026

امریکہ سے افغان شہریوں کو پاکستان منتقل کرنے کے بلومبرگ کے انکشاف اور اس کے علاقائی امن پر اثرات پر اہم رپورٹ۔

October 27, 2026

اردن نے جنوبی شام میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جن میں شامی حکام کے مطابق 7 افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں کے بعد شام نے نصیب سرحدی گزرگاہ بند کردی۔

October 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *