دنیا بھر میں جب بھی قانون شکنی، غیر قانونی تجارت، دہشت گردی یا جرم و تخریب کاری کی تاریخ لکھی جاتی ہے، تو بدقسمتی سے ہر بار اس کا کوئی نہ کوئی تاریک سرا افغانستان سے جا ملتا ہے۔ دہائیوں سے جاری بدامنی، سیاسی عدم استحکام اور بنیادی ریاستی ڈھانچے کے فقدان نے اس خطے کو جُرم اور قانون گریزی کی ایسی محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے جہاں ہر غیر قانونی دھندا پھل پھول رہا ہے۔
انسانی تاریخ اور معروضی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھی دنیا میں کسی غیر قانونی اور تخریب کاری کے نیٹ ورک کی جڑیں کھولی گئی ہیں، تو اس کے پس پردہ یا تو افغان عناصر یا اسی خطے کے کردار سب سے آگے نظر آئے ہیں۔ اس کی تازہ ترین اور ہولناک ترین مثال افغانستان میں منشیات (پوست اور افیون) کی بے لگام کاشت اور پیداوار میں ہونے والا ہوشربا اضافہ ہے، جس نے ایک بار پھر پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے ماضی میں پوست کی کاشت پر پابندی کے دعوؤں کے باوجود، افغانستان میں 2026 کے دوران پوست کی کاشت کا رقبہ بڑھ کر 43 ہزار ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ افیون کی پیداوار میں پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
محض ایک سال کے اندر پیداوار کا 300 ٹن سے چھلانگ لگا کر 1500 ٹن تک جا پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتی دعوے محض کاغذی اور بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کی ایک حکمت عملی کے سوا کچھ نہیں۔ غربت، مہنگائی اور بنیادی ضروریات کا بہانہ بنا کر ایک بار پھر کسانوں کو زہرِ قاتل یعنی افیون کی کاشت کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے، جہاں بدخشان جیسے صوبے اس غیر قانونی کاروبار کا سب سے بڑا گڑھ بن چکے ہیں۔
دلچسپ اور لمحہ فکریہ امر یہ ہے کہ ایک طرف تو افغان حکام سفارتی سطح پر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہوں نے منشیات کی روک تھام کے لیے بڑی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ہزاروں ایکڑ زمین پر فصلیں تلف کی ہیں، لیکن دوسری طرف زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔
کسانوں اور تجارتی نیٹ ورکس نے قانون کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لیے انتہائی چالاک ہتھکنڈے اپنا رکھے ہیں؛ کہیں غلہ جات کی آڑ میں تو کہیں گھروں اور چار دیواری کے اندر چھپا کر پوست کی کاشت کی جا رہی ہے۔ ہلمند اور دیگر علاقوں میں 90 فیصد سے زائد کاشت کو اس طرح پوشیدہ رکھا جاتا ہے کہ بظاہر سب کچھ قانون کے دائرے میں لگے، مگر اندر خیل موت کا یہ سودا پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہتا ہے۔
اس ہمہ گیر غیر قانونی تجارت کے اثرات صرف افغانستان کی حد تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کا براہِ راست نشانہ پاکستان سمیت پورا خطہ اور بالآخر مغربی ممالک بنتے ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے اس زہر کے منفی اثرات، اسمگلنگ اور اس سے جڑے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔ سرحد پار سے آنے والی یہ منشیات نہ صرف ملکی نوجوان نسل کی رگوں میں زہر گھولتی ہے بلکہ اس سے حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی آمدنی تخریب کار اور دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ بنتی ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری بار بار یہ انتباہ جاری کر چکی ہے کہ جب تک افغانستان میں پائیدار معاشی متبادل، روایتی زراعت کے لیے سچی معاونت اور سخت بین الاقوامی مانیٹرنگ کا نظام نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک اس خطے سے جڑے جرائم کا خاتمہ ناممکن ہے۔ افغان قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا اب محض کھوکھلے دعووں اور زبانی جمع خرچ سے مطمئن ہونے والی نہیں ہے۔
ایک طرف اسلام اور شریعت کے نام پر اندرونی سخت گیر ضابطے نافذ کرنا اور دوسری طرف انسانیت سوز منشیات کی بین الاقوامی تجارت کو پروان چڑھانا۔ یہ دو الگ کشتیاں ہیں جن پر طویل سفر طے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عالمی قوانین اور خطے کے امن کا احترام مقصد ہے، تو افغان سرزمین کو جرائم اور منشیات کی آماجگاہ بنانے کے اس طویل سلسلے کو فوری طور پر ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہوگا۔





