"> شیخ ہیبت اللہ کی کتاب د اهل السنة والجماعة عقیده

ملا ہیبت اللہ کی کتاب د اهل السنة والجماعة عقیده کا تحقیقی جائزہ

امیر کی اطاعت اور مسلم اتحاد کا درس دینے والی کتاب اور ٹی ٹی پی کی سرپرستی کے درمیان تضاد: کیا شریعت پاکستان اور افغانستان کے لیے الگ ہے؟
شیخ ہیبت اللہ کی کتاب ’’د اهل السنة والجماعة عقیده‘‘ کا تحقیقی جائزہ

شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی کتاب میں اطاعتِ امیر اور وحدتِ امت کے اصول بیان ہوئے ہیں۔ یہ جائزہ انہیں زمینی حقائق کی روشنی میں پرکھتا ہے اور پوچھتا ہے: کیا یہ شرعی اصول پاکستان اور افغانستان کے مسلمانوں پر یکساں لاگو ہوتے ہیں؟

October 29, 2026

دینی اصولوں کی اصل آزمائش ان کے بیان میں نہیں، ان کے عملی اطلاق میں ہوتی ہے۔ امیر کی اطاعت، مسلمانوں کا اتحاد، باہمی حقوق اور انسانی جان کی حرمت کو اسلام کے بنیادی اصول کہنا اسی وقت معتبر ہے جب ان کا اطلاق اپنوں اور مخالفوں پر یکساں ہو۔ جو قیادت ایک طرف اطاعتِ امیر کا درس دے اور دوسری طرف سرحد پار ایک مسلح گروہ کو پناہ، سہولت اور سرپرستی فراہم کرے جو ایک مسلم ملک کے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا خون بہاتا ہو، اس کے قول و فعل کا تضاد محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا۔ یہ دینی بیانیے کا بحران ہے،یہ قول و فعل کا تضاد ہے اور اس بحران کا مرکزی سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان اور پاکستان کی شریعت الگ الگ ہے؟

افغان طالبان کے سربراہ شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی پشتو کتاب د اهل السنة والجماعة عقیده میں امیر کی اطاعت، مسلمانوں کے اتحاد اور ان کے باہمی حقوق پر خاصا زور دیا گیا ہے۔ افغانستان کے اندر انہی اصولوں کی بنیاد پر علماء اور عوام سے بیعت اور مکمل اطاعت کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ مگر جب یہی اصول پاکستان میں مسلح کارروائیاں کرنے والی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر لاگو کرنے کا وقت آتا ہے تو خاموشی، ابہام اور سہولت کاری نظر آتی ہے۔ یہ دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟

امیر کی اطاعت

کتاب کے صفحات 131 تا 133 میں سورۃ النساء کی آیت 59 اور امیر کی اطاعت سے متعلق احادیث زیر بحث آتی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ

اس آیت کو ہر حکمران کی ہر حال میں غیر مشروط اطاعت کا حکم بنانا درست علمی طریقہ نہیں، اور اطاعت کی شرائط اور فقہی تفصیلات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ پوری قوت سے قائم ہے کہ جو قیادت افغانستان میں اس آیت کو نظمِ اجتماعی کی بنیاد بنا کر اپنی اطاعت کراتی ہے، وہ پاکستان میں اپنی الگ قیادت بنا کر مسلح کارروائیاں کرنے والے گروہ پر یہی اصول کیوں نافذ نہیں کرتی؟ کیا امیر کی اطاعت کا اصول صرف اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، اور جہاں اس کا تقاضا اپنے نظریاتی ساتھیوں کو روکنا ہو وہاں یہ اصول معطل و منسوخ ہو جاتا ہے؟

اگر کسی کے نزدیک ایک ملک میں امیر سے بغاوت اور انتشار حرام ہے، تو دوسرے مسلمان ملک میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی سرپرستی کا شرعی جواز کیا ہے؟ اسلام میں کسی گروہ کا خود کو اسلامی کہہ دینا اسے مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانے کا حق نہیں دیتا۔ حکومت سے اختلاف، پالیسیوں پر ناراضی یا سیاسی شکایت عام شہریوں، پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو نشانہ بنانے کا جواز نہیں بن سکتی۔

کیا شریعت الگ الگ ہے؟

یہ اس پوری بحث کا مرکزی سوال ہے۔ شریعت سرحدوں کے ساتھ نہیں بدلتی۔ جو حکم کابل میں ہے وہی اسلام آباد اور پشاور میں ہے۔ اگر افغانستان میں امیر کی اطاعت فرض ہے، مسلمانوں کے درمیان انتشار حرام ہے اور مسلمان کی جان و مال کی حرمت مسلّم ہے، تو یہی احکام پاکستان کے مسلمانوں کے لیے بھی ہیں۔ کوئی ایسی شریعت موجود نہیں جس میں افغان کا خون محترم ہو اور پاکستانی مسلمان کا خون ارزاں۔ مختلف حالات میں احکام کے اطلاق کی فقہی تفصیلات اور اختلافات اپنی جگہ، مگر بنیادی اصول ایک ہیں اور سب پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔

اس لیے جب عملی رویے سے یہ تاثر ملے کہ افغانستان میں اصول سخت ہیں اور پاکستان کے معاملے میں نرم، تو لازم ہے کہ اس کی وضاحت دی جائے۔ اگر پاکستان میں ٹی ٹی پی کی کارروائیاں ناجائز ہیں تو ان کی دوٹوک اور علانیہ مذمت کہاں ہے؟ اگر جائز ہیں تو اس کی شرعی دلیل کیا ہے؟ اور اگر ان کی حمایت نہیں کی جاتی تو اس کا عملی ثبوت کیا ہے؟ مبہم خاموشی دراصل بمثل حمایت ہی ہوتی ہے، اور اس مؤقف کا بوجھ اس پر ہوتا ہے جو اصولوں کا سب سے بلند دعویدار ہو۔

قول و فعل کا تضاد

بیان کی حد تک اتحادِ امت، اطاعتِ امیر اور مسلمان کے خون کی حرمت کے دعوے آسان ہیں۔ مشکل وہاں ہوتی ہے جہاں ان کا تقاضا اپنے ہم خیال اور ہم نظریہ ساتھیوں کے خلاف کھڑا ہونا ہو۔ قرآن نے ایسے رویے پر سخت تنبیہ کی ہے کہ تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔ جو قیادت اپنی کتابوں میں اتحاد کا درس دے اور عملاً ایسے گروہ کے لیے گنجائش رکھے جو پاکستانی مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہو، وہ اپنے ہی بیان کردہ اصولوں کی نفی کرتی ہے۔

یہ تضاد اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ پاکستان محض ایک ہمسایہ ملک نہیں۔ دہائیوں تک اس نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، اور افغان طالبان کے بہت سے رہنماؤں اور ان کے حلقوں کے افراد نے اسی سرزمین کے دینی مدارس اور اداروں سے علم حاصل کیا۔ احسان کا بدلہ احسان ہے، اور جس ملک کی خاک سے علم اور پناہ ملی ہو، اس کے خلاف برسرِ پیکار گروہوں کی پشت پناہی اخلاقی اور دینی دونوں معیاروں پر ناقابلِ دفاع ہے۔ یہاں یہ احتیاط ضرور ملحوظ رہے کہ کسی شخص کے کسی مدرسے میں پڑھنے سے اس کے ہر سیاسی عمل کی ذمہ داری اس کے استاد پر نہیں ڈالی جا سکتی، لیکن اخلاقی تقاضا اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔

مسلم اتحاد

کتاب کے صفحات 134 تا 136 میں مسلمانوں کے اتحاد اور تفرقے سے اجتناب کا موضوع آتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت 103 کے الفاظ ہیں:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

ترجمہ: سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو اور تفرقے میں نہ پڑو۔

اتحاد کا یہ حکم کسی ایک جغرافیے تک محدود نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان مذہبی، تاریخی، خاندانی اور معاشرتی رشتے صدیوں پرانے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے شہریوں، علماء، دینی اساتذہ، پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کا خون بہانے والوں کو سہارا دینا اتحاد کی روح کے سراسر منافی ہے۔ جو آیت مسلمانوں کو تفرقے سے روکتی ہے وہ ان کی جانوں سے کھیلنے والوں کی سرپرستی کی اجازت نہیں دے سکتی۔

کتاب کے صفحہ 130 پر کلمۂ شہادت اور مسلمانوں کے حقوق و ذمہ داریوں کا ذکر بھی ہے۔ جو شخص کلمہ پڑھ لے اس کی جان و مال محترم ہو جاتی ہے، اور اس حرمت کا اطلاق پاکستانی کلمہ گو پر بھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنا افغان پر۔ اگر کتاب میں بیان کردہ یہ اصول واقعی مانے جاتے ہیں تو پاکستان میں بہنے والے کلمہ گو مسلمانوں کے خون پر خاموشی کیوں ہے؟

سلامتی کونسل کا حوالہ

اس معاملے میں پاکستان کا موقف طویل عرصے سے یہی رہا ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کرتی ہے۔ یہ محض پاکستانی دعویٰ نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی ٹیم کی رپورٹ (ایس/2025/796، دسمبر 2025) میں بھی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے پاکستان میں حملوں کا ذکر ہے۔ اسی طرح دیگر تھنک ٹینکس اور تحقیقاتی ادروں کی رپورٹس بھی پاکستان کے مؤقف کی تصدیق و تائید کرتی ہیں۔

اصل امتحان

دین کے نام پر اصول بیان کرنا آسان ہے، ان پر عمل مشکل۔ امیر کی اطاعت، مسلم اتحاد اور مسلمان کی جان کی حرمت کا ذکر اسی وقت وزن رکھتا ہے جب ان کا اطلاق سیاسی مصلحت اور نظریاتی قربت سے بالاتر ہو کر کیا جائے۔ افغان طالبان کی قیادت کو چاہیے کہ وہ صاف بتائے کہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کی مسلح کارروائیاں شرعاً جائز ہیں یا ناجائز، اور اگر ناجائز ہیں تو انہیں روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔

شریعت ایک ہے یا دو؟

شریعت اگر ایک ہے تو جو اصول کابل میں لازم ہیں وہی اسلام آباد کے مسلمانوں کے لیے بھی لازم ہیں، اور اگر ان کا اطلاق صرف اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے ہو تو یہ شریعت کی پاسداری نہیں بلکہ اس کا سیاسی استعمال ہے۔ دینی بیانیے کی ساکھ کا واحد معیار قول و فعل کی یکسانیت ہے، اور جب تک یہ معیار پورا نہیں ہوتا، اطاعت و اتحاد کے تمام دعوے سوالیہ نشان بنے رہیں گے۔

متعلقہ مضامین

خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی کو خیبرپختونخوا حکومت میں حصہ ملتا تو وہ گزشتہ روز تقریر نہ کرتے۔

October 29, 2026

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی ایم کیو ون ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ نے فوری طور پر اس دعوے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

October 29, 2026

شمالی کوریا نے وونسان سے مشرقی سمندر کی جانب تقریباً 10 مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے۔ جنوبی کوریا اور امریکہ میزائلوں کی تکنیکی خصوصیات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

October 29, 2026

بلید میں کالعدم تنظیم کی موجودگی پر تشویش۔ شہریوں کا ایکس پر پراپیگنڈا روکنے اور فیصلہ کن سیکیورٹی کارروائی کا مطالبہ۔

October 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *