"> پاکستان سے تجارتی راستے بند، افغان انار گلنے سڑنے لگے

طالبان کی ضد، افغان انار تباہ، تاجروں کو بھاری نقصان

کبھی معاشی اصولوں کا تمسخر اڑانے والے طالبان کی ضدی پالیسیوں نے افغان تاجروں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ سرحدیں بند ہونے سے انار سڑ رہے ہیں اور معیشت کا جنازہ نکل چکا ہے۔
پاکستان سے تجارتی راستے بند، افغان انار گلنے سڑنے لگے

پاکستان سے سرحدیں بند ہونے پر طالبان کی معاشی نااہلی بے نقاب ہو گئی۔ ماضی میں مذاق اڑانے والی طالبان انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کے باعث افغان تاجر اور کسان شدید مالی بحران میں مبتلا ہیں۔

October 30, 2026

قندھار کے جن باغات کے بہترین انار دنیا بھر میں بھیجے جاتے تھے، آج پاکستان کے ساتھ سرحدی راستے بند ہونے کی وجہ سے وہی انار سڑکوں پر پڑے سڑ رہے ہیں اور تاجروں کو فی ٹرک لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

جب معاشی اصولوں اور تجارت کی سمجھ نہ ہو، تو حکومت چلانے کا دعویٰ کرنے والوں کا غرور آخرکار عوام کے لیے تباہی کا باعث بنتا ہے۔ طالبان کی غیر سنجیدہ اور ضدی پالیسیوں نے افغان معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

اس تمام صورتحال پر ایچ ٹی این پشتو کی گزشتہ رپورٹ نے طالبان انتظامیہ کے پراپیگنڈے کا پول کھول دیا ہے۔ ایچ ٹی این پشتو نے نشاندہی کی کہ طالبان نے یہ تاثر دینے کے لیے کہ انہیں پاکستان کی ضرورت نہیں ہے، روس کو 22 ٹن انار برآمد کرنے کی خوب نمائش کی۔ لیکن ایچ ٹی این پشتو کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی ڈرامہ اور میڈیا کا شوشہ تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کے راستے روزانہ ہزاروں ٹن پھل برآمد ہوتے تھے، جس کا متبادل چند ٹرک روس بھیج کر کبھی نہیں بن سکتا۔

ایچ ٹی این پشتو کی رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ طالبان کی آمد کے بعد سے افغانستان کی معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے اور معاشی حجم 25 فیصد تک گر چکا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد جتنے بھی سنہرے خواب دکھائیں، سچائی یہی ہے کہ طالبان کے پاس معیشت چلانے کے لیے نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی جامع منصوبہ۔

طالبان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ ریاست کو ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر چلانے کے بجائے شدت پسندانہ سوچ سے چلا رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف بالکل صاف ہے کہ جب تک افغان سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روکا جاتا، تجارتی راہداریاں بحال نہیں ہو سکتیں۔ طالبان دہشت گردوں کی سرپرستی کر کے نہ صرف اپنے ملک کے تاجروں کا معاشی قتل کر رہے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

سفارت کاری اور معیشت کو ضد اور ہٹ دھرمی کی نذر کرنے کا نتیجہ ہمیشہ تباہ کن ہوتا ہے۔ طالبان انتظامیہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ محض نمائش اور جھوٹے بیانات سے ملک نہیں چلتے؛ جب تک وہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات نہیں کریں گے اور ایک ذمہ دار حکومت کی طرح سوچنا شروع نہیں کریں گے، تب تک افغان عوام اسی طرح ان کی غلط پالیسیوں کی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔

متعلقہ مضامین

جنرل عبدالوحید کاکڑ اچانک آرمی چیف بنے اور مدت پوری ہونے پر توسیع کی پیشکش ٹھکرا کر گھر چلے گئے۔ 89 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔

October 30, 2026

قطری ثالثوں کی امریکہ اور ایران کے درمیان سمجھوتے کے لیے تہران آمد؛ واشنگٹن کی کوآرڈینیشن سے سفارتی تلاش تیز ہو گئی۔

October 30, 2026

کراچی کے کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا، آتشزدگی سے 35 دکانیں اور 10 سے 12 جھگیاں جل گئیں۔

October 30, 2026

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو خطے میں آبی سیکیورٹی اور انسانی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

October 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *