قندھار کے جن باغات کے بہترین انار دنیا بھر میں بھیجے جاتے تھے، آج پاکستان کے ساتھ سرحدی راستے بند ہونے کی وجہ سے وہی انار سڑکوں پر پڑے سڑ رہے ہیں اور تاجروں کو فی ٹرک لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
جب معاشی اصولوں اور تجارت کی سمجھ نہ ہو، تو حکومت چلانے کا دعویٰ کرنے والوں کا غرور آخرکار عوام کے لیے تباہی کا باعث بنتا ہے۔ طالبان کی غیر سنجیدہ اور ضدی پالیسیوں نے افغان معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
اس تمام صورتحال پر ایچ ٹی این پشتو کی گزشتہ رپورٹ نے طالبان انتظامیہ کے پراپیگنڈے کا پول کھول دیا ہے۔ ایچ ٹی این پشتو نے نشاندہی کی کہ طالبان نے یہ تاثر دینے کے لیے کہ انہیں پاکستان کی ضرورت نہیں ہے، روس کو 22 ٹن انار برآمد کرنے کی خوب نمائش کی۔ لیکن ایچ ٹی این پشتو کے مطابق یہ صرف ایک سیاسی ڈرامہ اور میڈیا کا شوشہ تھا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان کے راستے روزانہ ہزاروں ٹن پھل برآمد ہوتے تھے، جس کا متبادل چند ٹرک روس بھیج کر کبھی نہیں بن سکتا۔
ایچ ٹی این پشتو کی رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ طالبان کی آمد کے بعد سے افغانستان کی معیشت مسلسل زوال کا شکار ہے اور معاشی حجم 25 فیصد تک گر چکا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد جتنے بھی سنہرے خواب دکھائیں، سچائی یہی ہے کہ طالبان کے پاس معیشت چلانے کے لیے نہ تو کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی جامع منصوبہ۔
طالبان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ ریاست کو ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر چلانے کے بجائے شدت پسندانہ سوچ سے چلا رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف بالکل صاف ہے کہ جب تک افغان سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روکا جاتا، تجارتی راہداریاں بحال نہیں ہو سکتیں۔ طالبان دہشت گردوں کی سرپرستی کر کے نہ صرف اپنے ملک کے تاجروں کا معاشی قتل کر رہے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔
سفارت کاری اور معیشت کو ضد اور ہٹ دھرمی کی نذر کرنے کا نتیجہ ہمیشہ تباہ کن ہوتا ہے۔ طالبان انتظامیہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ محض نمائش اور جھوٹے بیانات سے ملک نہیں چلتے؛ جب تک وہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات نہیں کریں گے اور ایک ذمہ دار حکومت کی طرح سوچنا شروع نہیں کریں گے، تب تک افغان عوام اسی طرح ان کی غلط پالیسیوں کی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔





