امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور سفارتی راستے کی بحالی کے لیے قطری ثالث جمعہ 30 اکتوبر کو ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری شدید کشیدگی کو کم کرنے کی اہم کوشش ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے مذاکرات سے باخبر ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ قطری وفد کا یہ نیا دورہ واشنگٹن کی مکمل مشاورت اور ہم آہنگی سے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس کا بنیادی مقصد فریقین کو ایک قابلِ قبول فارمولے پر متفق کرنا ہے۔
اس سے قبل قطر کی جانب سے 25 اکتوبر کو ایک امن مسودہ پیش کیا گیا تھا، جسے ایرانی حکام نے اپنے جوہری حقوق کے منافی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 28 اکتوبر کو واضح کیا کہ تہران اپنے پیش کردہ سات روزہ پروپوزل پر ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط بھیج کر اعلیٰ سطح کی جلد ملاقات کی تجویز دی تھی، جس پر ایران کا باضابطہ جواب ابھی سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران کی 7 بنیادی شرائط کی تسلیم شدگی کے بغیر مذاکرات میں واقعی پیشرفت ممکن نہیں ہوگی۔
سفارتی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران دونوں جانب سے بالواسطہ پیغامات اور ثالثوں کی فعال موجودگی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ خطے میں بڑی فوجی تصادم سے بچنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں جاری ہیں۔





