ترکیہ کے قومی انٹیلی جنس ادارے (ایم آئی ٹی) نے داعش خراسان کے اہم رکن اوغور بہادر کو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی خطے میں کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ وہ تنظیم میں عبداللہ کے خفیہ نام سے سرگرم تھا۔
ترک حکام کے مطابق ایم آئی ٹی نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اوغور بہادر کی نقل و حرکت کا پتا لگایا۔ وہ 2024 میں ترکیہ سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی خطے میں پہنچا تھا، جہاں داعش کے متعدد تربیتی مراکز میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیتا رہا۔
ترک انٹیلی جنس نے کارروائی کے دوران اسے گرفتار کرکے ترکیہ منتقل کر دیا۔ ابتدائی تفتیش میں اس نے داعش کے تربیتی مراکز، تنظیم کی سرگرمیوں اور اپنے ذمہ سونپے گئے کاموں سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
تحقیقات کے مطابق اوغور بہادر کا رابطہ ابو یاسر الترکی کے خفیہ نام سے سرگرم اوزگور آلتون سے بھی تھا۔ وہ ترکیہ سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی خطے میں داعش کے ارکان کی منتقلی کا انتظام کرتا تھا۔ اسے 2025 کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اوغور بہادر افغانستان اور پاکستان کے سرحدی خطے میں داعش کے میڈیا ونگ سے وابستہ احمد کازانجی کے ساتھ بھی سرگرم رہا، جو ابو عبیدہ اور ابو ابراہیم کے ناموں سے جانا جاتا تھا۔ اسے 2026 کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ترک حکام کے مطابق ایم آئی ٹی کی کارروائیوں کے نتیجے میں داعش کی ترکیہ میں حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنانے، تنظیم کی بھرتی سرگرمیوں کا پتا لگانے اور اس کے عملی منصوبوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔





