پاکستان علما کونسل کے چیئرمین اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، جبکہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔
ڈسکہ کے اقراء پائنیر کالج میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے طاہر اشرفی نے کہا کہ افغانستان میں بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر معصوم بچیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے نوشکی میں گرلز کالج پر حملے کو انسانیت کے خلاف اقدام اور بلوچستان کی بیٹیوں کے مستقبل پر سنگین حملہ قرار دیا۔
دہشت گردی کا اسلام سے تعلق
طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلام اور پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ قرآن و سنت اور اسلامی شریعت کا نام استعمال کرکے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے نظریات اور اقدامات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ پاکستان کو لیبیا، عراق، یمن اور صومالیہ جیسی بدامنی اور انتشار کی صورت حال سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں اور قومی اتحاد کے باعث ان سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی کو شکست دے چکا ہے اور آئندہ بھی اس کا مقابلہ کرے گا۔
افواج اور عوام میں تقسیم
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاک فوج کے بنیادی اصول ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے افسران اور جوان ملک کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان مخالف عناصر سوشل میڈیا، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے عوام اور مسلح افواج کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم یہ سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
انہوں نے معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے مقام اور احترام میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی امن، علاقائی استحکام اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے خدمات کو سراہا۔





