عالمی سلامتی کے تناظر میں القاعدہ کی قیادت کی نقل و حرکت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جہاں تنظیم کے سینیئر رہنماؤں اور خاندانوں کی افغانستان منتقلی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
القاعدہ کے سینیئر رہنماؤں اور سیف العدل نے فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد افغانستان کا رخ کیا۔ اطلاعات کے مطابق القاعدہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے تقریباً 45 خاندان بھی افغانستان پہنچ چکے ہیں۔
افغان طالبان حکومت نے ان میں سے بعض خاندانوں کو صوبہ غزنی میں نو تعمیر شدہ اپارٹمنٹ عمارتوں میں سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت ٹھہرایا ہے، جبکہ دیگر خاندانوں کو کابل کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجوؤں نے اتحاد المجاہدین کے ساتھ اشتراک شروع کر دیا ہے۔ یہ اتحاد پکتیا، پکتیکا اور خوست میں سرگرم ہے اور اس میں حافظ گل بہادر کا گروہ بھی شامل ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم نے افغان سرزمین پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کی مسلسل نشاندہی کی ہے۔ اس پیش رفت سے دوحہ معاہدے کے تحت طالبان کی ان یقین دہانیوں پر سوالات اٹھ گئے ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔





