افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کی جانب سے افغان مہاجرین کو پاکستان کے ذریعے واپس بھیجنے کے عمل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ افغان شہریوں کے حقوق اور ان کی عزت و وقار کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں، لیکن ان کا اپنا ریکارڈ حقوق کی پامالی اور توڑ موڑ کا شکار ہے۔
طالبان کے دعوے اور حقیقت
ایک طرف طالبان افغان شہریوں کے تحفظ کا راگ الاپ رہے ہیں، تو دوسری جانب ان کی جابرانہ پالیسیوں اور انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ہزاروں افغان شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ عام معافی کے دعوے ہوا میں اڑا دیے گئے ہیں اور بنیادی انسانی حقوق کا استحصال روز کا معمول بن چکا ہے۔
طالبان کا یہ سوچنا محض ایک خام خیالی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک افغان مہاجرین کو غیر معینہ مدت تک اپنے ہاں رکھنے کے پابند ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ویزا یا قیام کا حق ایک خودمختار ریاست کی ترجیح ہوتا ہے، کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو پناہ دینے کا قانونی پابند نہیں۔
عالمی برادری میں طالبان حکومت کو تسلیم نہ کیے جانے کے باعث امریکہ ان سے براہِ راست معاملات طے کرنے کے بجائے پاکستان کا راستہ استعمال کر رہا ہے۔ طالبان نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے خود کو بین الاقوامی سطح پر اکیلا کر لیا ہے اور دنیا کا کوئی سنجیدہ ملک ان کے ساتھ براہِ راست تعلقات قائم کرنے کو تیار نہیں۔
پاکستان صرف ایک گزرگاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے کیونکہ طالبان نے ہر سفارتی پل جلا دیا ہے۔ اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے اور مظلوم بننے کے بجائے طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کی باوقار واپسی قبول کریں اور ملک میں قابلِ رہائش حالات پیدا کریں۔





