خیبرپختونخوا میں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں کی نشاندہی اور ملک بدری کے لیے خصوصی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ کوہاٹ اور کرک میں کارروائیوں کے دوران 23 افغان شہریوں کو حراست میں لے کر وطن واپسی کے عمل کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور 12 مخصوص اضلاع میں ایمرجنسی کے اعلان کے بعد یہ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد غیرقانونی طور پر مقیم افغان شہریوں سمیت دیگر غیرملکیوں کی نشاندہی اور انہیں وطن واپس بھیجنا ہے۔
اس مقصد کے لیے پشاور میں ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، جو صوبے کے 34 اضلاع کے شہری اور دیہی علاقوں میں کارروائیوں کی نگرانی کرے گا۔ آپریشن کے لیے 120 خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔
ان ٹیموں میں سے 50 کو مارکیٹوں اور بازاروں جبکہ 70 کو رہائشی علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں غیرقانونی طور پر مقیم غیرملکی شہریوں کی نشاندہی کریں گی۔
ابتدائی کارروائیوں کے دوران کوہاٹ کے کوتل ٹاؤن شپ اور ملز ایریا سے 13 افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے ٹیری سے مزید 10 افغان شہری پکڑے گئے۔ بعدازاں تمام 23 افراد کو وطن واپسی کے عمل کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا۔
دوسری جانب پاک افغان سرحد پر طورخم بارڈر کو کشیدگی میں کمی کے بعد افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔





