امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دو مسلم امیدوار عبدل السید اور ڈاکٹر آدم حموی کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر آدم حموی وہ معالج ہیں جنہوں نے 2024ء اور 2025ء میں غزہ کے زخمی فلسطینیوں کا علاج کیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق عبدل السید نے مشی گن سے سینیٹ کی نشست جیت لی، جبکہ ڈاکٹر آدم حموی نیو جرسی سے ایوان نمائندگان کے رکن منتخب ہوگئے۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سینیٹ کی نشست جیت لی
مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے ریپبلکن امیدوار مائک راجرز کو شکست دی۔ عبدل السید نے 51 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے حریف کو 48 فیصد ووٹ ملے۔
کامیابی کے بعد عبدل السید نے کہا کہ وہ اپنی جیت عوام کے نام کرتے ہیں اور امریکا کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران ان کے نام اور عقیدے کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کے باوجود انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں شکست دینے کے لیے خطیر رقم خرچ کی گئی، لیکن مشی گن کے عوام نے امید کا انتخاب کیا۔ ان کے مطابق اب ان کی توجہ اپنے پالیسی ایجنڈے پر عمل درآمد پر مرکوز ہوگی۔
فلسطینیوں کرنے والے ڈاکٹر آدم حموی
دوسری جانب مصری نژاد امریکی ڈاکٹر آدم حموی نے نیو جرسی سے ایوان نمائندگان کی نشست جیت لی ہے۔ وہ اس ریاست سے کانگریس میں پہنچنے والے پہلے مسلمان اور پہلے مصری نژاد رکن بن گئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار آدم حموی نے ریپبلکن امیدوار گریگ میل کو شکست دی۔
ڈاکٹر آدم حموی صحت کی بہتر سہولتوں اور سستے گھروں کی فراہمی کے حامی ہیں۔ انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی حمایت بھی کی ہے۔
طبی خدمات
ڈاکٹر آدم حموی 2024ء اور 2025ء میں غزہ جا کر زخمی فلسطینیوں کا علاج کرچکے ہیں۔ وہ عراق جنگ کے دوران امریکی فوج میں بطور سرجن بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر آدم حموی اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔ ان کی انتخابی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ اور فلسطین سے متعلق امریکی پالیسی اور اسرائیل کے لیے فوجی امداد کا معاملہ امریکی سیاست میں زیر بحث ہے۔





