مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

بشیر زیب بلوچ کا عروج و زوال، بی ایل اے سے علیحدگی کیوں؟

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
بشیر زیب بلوچ کون ہیں اور بی ایل اے کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟

کالعدم بی ایل اے کی قیادت سے برطرف ہونے والے بشیر زیب کی اصل کہانی، متعدد ہولناک حملوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم کے اندرونی اختلاف پر ایک معلوماتی جائزہ۔

November 4, 2026

کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) ایک بار پھر شدید انتشار اور توڑ پھوڑ کا شکار ہو گئی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ متعدد خونریز حملوں اور خودکش دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ بشیر زیب بلوچ اب تنظیم کا سربراہ نہیں رہا اور اسے کونسل کے فیصلے کے تحت عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست مخالف عسکریت پسند دھڑے مسلسل اندرونی اختلاف اور زوال کا شکار ہیں، جہاں اقتدار اور وسائل کی جنگ میں آئے دن قیادت کو تبدیل یا برطرف کر دیا جاتا ہے۔

بشیر زیب کون ہے اور اس نے دہشت گردی کی راہ کیسے اپنائی؟ اس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق بلوچستان کے علاقے نوشکی کے ایک متوسط خاندان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اس نے کوئٹہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا اور بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

لیکن تعلیم اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دینے کے بجائے وہ طلبہ سیاست کی آڑ میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور تفرقہ انگیزی میں ملوث ہو گیا۔ پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ سے شروع ہونے والا یہ سفر کالعدم بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم تک پہنچا، جہاں 2006 سے 2012 تک اس نے شدت پسندانہ نظریات کے فروغ اور نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولنے کا کام کیا۔

طلبہ تنظیم کے نام پر کوئٹہ شہر اور تعلیمی اداروں میں پاکستان مخالف لٹریچر تقسیم کرنا اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنا بشیر زیب کا بنیادی کام رہا۔ پاکستانی سکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس کی گرفتاری کے لیے یونیورسٹی اور دیگر جگہوں پر متعدد چھاپے مارے گئے، لیکن وہ روپوش ہو کر قانونی گرفت سے بچتا رہا۔

اپنی تحریروں میں نہ صرف اس نے ریاست پاکستان کے خلاف زہر افشانی کی بلکہ دیگر سیاسی بلوچ جماعتوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس سے اس کی انتہا پسندانہ سوچ کا واضح اندازہ ہوتا ہے۔

سال 2018 میں بشیر زیب نے طلبہ سیاست کا چولا اتار کر مکمل طور پر دہشت گردی کی دنیا میں قدم رکھا اور بی ایل اے کے سفاک گروہ میں شامل ہو گیا۔ اس سے قبل وہ ڈاکٹر اللہ نذر کے نظریات سے متاثر ہو کر بندوق کے ذریعے ریاست پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کالعدم بی ایل اے خود بھی متعدد بار تقسیم اور دھڑے بندی کا شکار رہی ہے۔ 2017 میں تنظیمی اصولوں اور مالی وسائل کے تنازعات پر بشیر زیب اور اس کے ساتھی اسلم بلوچ (عرف استاد اسلم) کو بی ایل اے کے پرانے دھڑے سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنا الگ شدت پسند گروہ قائم کر لیا۔ 2018 میں اسلم بلوچ کی ہلاکت کے بعد اس خونریز تنظیم کی باگ ڈور بشیر زیب کے ہاتھ میں آئی۔

بشیر زیب کی قیادت میں بی ایل اے نے دہشت گردی اور سفاکی کی تمام حدیں عبور کر دیں۔ وہ نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے، 2020 میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملے اور کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پر خاتون خودکش حملے سمیت متعدد ہولناک وارداتوں کا مرکزی منصوبہ ساز تھا۔

اس نے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور بالخصوص خواتین کے ذہنوں کو گمراہ کر کے انہیں خودکش بمبار کے طور پر استعمال کیا، جس کی تازہ ترین مثال کراچی ایئرپورٹ کے قریب چینی انجینئرز پر حملہ ہے، جس کے مقدمے میں عدالت نے بشیر زیب کو مفرور اور اشتہاری قرار دیا۔

اس کے علاوہ بشیر زیب نے دیگر کالعدم تنظیموں جیسے بی ایل ایف، بی آر جی اور سندھ کے بعض ملک دشمن عناصر کے ساتھ مل کر براس نامی دہشت گرد اتحاد قائم کیا تاکہ ملک میں خوف، قتل وغارت اور تباہی کا دائرہ کار وسیع کیا جا سکے۔ تاہم، معصوم شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور غیر ملکی ڈیوٹی پر مامور انجینئرز کے خون سے ہاتھ رنگنے والے اس دہشت گرد کی خود اپنی تنظیم میں اب کوئی جگہ نہیں رہی۔

بی ایل اے سے بشیر زیب کو ہٹایا جانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ تشدد اور دہشت گردی کا راستہ اپنانے والے ان دھڑوں کا انجام ہمیشہ رسوائی، داخلی پھوٹ اور زوال پر ہی ختم ہوتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثر کارروائیوں اور ان تنظیموں کے اپنے اندرونی خلفشار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والے مٹھی بھر عناصر بالآخر خود اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس کر نابود ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *