افغانستان میں طبی سہولیات پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ شدید غذائی قلت کی وجہ سے ہسپتالوں میں متاثرہ بچوں کی آمد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے رابطہ برائے انسانی امور (اوچا) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بنیادی امداد اور وسائل کی مسلسل کمی کے باعث ملک بھر میں لاکھوں خاندان انتہائی ابتر معاشی حالت کا شکار ہیں۔
اوچا کے جاری کردہ بیان کے مطابق صحت کے مراکز میں گنجائش ختم ہو رہی ہے اور غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج مسلسل دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں طالبان حکومت کی ترجیحات پر سوالات اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک طرف عام شہری شدید فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں تو دوسری جانب حکومتی سطح پر وسائل کو ڈرون سازی اور دیگر دفاعی سرگرمیوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کمانڈرز کے پاس تقریباً 5.9 ارب ڈالر مالیت کے افیون کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کابل انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے لیے بھیجی گئی 8 ارب ڈالر کی عالمی انسانی امداد میں سے 91 فیصد رقم کا کوئی شفاف حساب کتاب یا سراغ دستاب نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کو مجموعی طور پر 17.5 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد حاصل ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود عام افغان شہری بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بدحالی کے بحران سے نبرد آزما ہیں۔ اوچا نے خبردار کیا ہے کہ امدادی فنڈز کی غیر شفافیت اور انتظامی عدم توجہ کی قیمت معصوم بچوں اور غریب خاندانوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔





