پاکستان اور بھارت نے 3 نومبر کو میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے اپنے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل فاز کا پروازی تجربہ کیا، جبکہ بھارت نے بیلسٹک میزائل پرلے کا تجربہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فاز میزائل کو جے ایف 17 تھنڈر طیارے سے داغا گیا۔ یہ پاکستان کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے۔
آئی ایس پی آر نے تجربے کو کامیاب قرار دیا، تاہم میزائل کی عملی رینج اور دیگر تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
دوسری جانب بھارت نے اپنے مقامی طور پر تیار کردہ بیلسٹک میزائل پرلے کا تجربہ کیا۔
بھارتی دفاعی تحقیقاتی ادارے ڈی آر ڈی او کے مطابق میزائل کو ریاست اڑیسہ کے ساحل پر چندی پور میں واقع انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج سے داغا گیا۔
بھارتی سرکاری نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو کے مطابق میزائل نے تقریباً 500 کلومیٹر دور دو فرضی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ تجربے سے قبل 2500 سے زائد مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
تاہم 5 نومبر تک ڈی آر ڈی او، بھارتی وزارت دفاع یا پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے اس تجربے پر باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔ میزائل کی آخری مرحلے میں پانچ ماخ رفتار سے متعلق اطلاع بھی غیر سرکاری ہے۔
بھارتی ٹیکنالوجی میں پیش رفت
بھارت نے دفاعی ٹیکنالوجی اور اسلحے کی برآمدات بڑھانے کے لیے بھی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بھارتی دفاعی تحقیقاتی ادارے نے ایس بینڈ ہائی پاور مائیکرو ویو ٹیسٹ سسٹم کی تیاری کے لیے درخواست جاری کی ہے۔ اس منصوبے کو شیلڈ کا نام دیا گیا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 2029ء تک دفاعی برآمدات کا ہدف 50 ہزار کروڑ بھارتی روپے مقرر کیا ہے۔
روس سے بھارت کو ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی آخری کھیپ جنوری اور فروری 2027ء میں ملنے کی توقع ہے۔
روسی حکام کے مطابق اس نظام کی ترسیل کے طے شدہ شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
بھارت کا مغربی ایشیا پر مؤقف
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے فریقین پر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تنازع کے دوران 23 بھارتی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب بھارت کے ساحلی علاقے بالیشور میں تجرباتی پروازی آزمائشوں کے لیے فضائی حدود سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے تحت 5 اور 6 نومبر کو مختلف اوقات میں تقریباً 620 کلومیٹر تک کا علاقہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔





