عالمی سیاست میں بڑی طاقتوں کے درمیان سفارتی رابطے اور اسٹریٹجک معاملات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ممکنہ سہ فریقی ملاقات کی تجویز سامنے آئی ہے۔ دوسری جانب روس نے عالمی اسٹریٹجک استحکام کے لیے نئے مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ یورپ نے خطے میں امریکی کردار کم ہونے اور سکیورٹی خطرات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
جنوبی کوریا کے اخبار چوسن بز کے مطابق تینوں رہنماؤں کی ممکنہ ملاقات 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں ہو سکتی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ چین تینوں سربراہان کی ملاقات کے حوالے سے متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔
چین اور روس کامؤقف
روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اس وقت اسٹریٹجک استحکام کا کوئی باقاعدہ فریم ورک موجود نہیں اور اس حوالے سے مذاکرات جلد شروع ہونے چاہییں۔
امریکی تھنک ٹینک بروکنگز سے وابستہ تجزیہ کار کے مطابق چین موجودہ نازک مگر نسبتاً پُرسکون صورت حال کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
فودان یونیورسٹی کے ماہر وو شینبو کا کہنا ہے کہ چین آئندہ مذاکرات میں سخت مؤقف اختیار کر سکتا ہے۔
خطرات کا خدشہ
نیٹو کی عسکری قیادت نے یورپ کی سکیورٹی صورت حال کو غیر یقینی قرار دیا ہے۔
نیٹو کے اعلیٰ فوجی عہدیدار جوزیپے دراگونے کہا کہ یورپ اس وقت نہ جنگ کی حالت میں ہے اور نہ ہی مکمل امن میں۔
یورپی یونین کے ادارے برائے سکیورٹی اسٹڈیز سے وابستہ ماہر اسپاتافورا کے مطابق یورپ میں امریکا کا کردار کم ہونے کے ساتھ سکیورٹی خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
یوکرین کے معاملے پر تجزیہ کار شیرینگوسکی کا کہنا ہے کہ فوجی امداد اور روس پر پابندیوں سے متعلق اہم فیصلوں کا اختیار بڑی حد تک امریکی انتظامیہ کے پاس برقرار رہے گا۔
شمالی کوریا کی سرگرمیاں
شمالی کوریا نے امریکا سے اپنی دشمنانہ پالیسی ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف دشمنانہ پالیسی کا خاتمہ تمام مسائل کے حل کے لیے بنیادی شرط ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے نمفو میں ایک نئے جنگی بحری جہاز کا معائنہ بھی کیا۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق شمالی کوریا نے سونڈوک کے علاقے سے متعدد میزائل داغے ہیں۔
امریکا میں دفاعی معاملات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس نے ایران کے خلاف ممکنہ جنگ اور فوجی کارروائیوں سے متعلق تحقیقات کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔
امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مضبوط پوزیشن کے بعد ایران پالیسی اور فوجی فیصلوں پر سیاسی نگرانی بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی تجارت کے محاذ پر کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ان کا ملک موجودہ امریکی تجارتی پالیسی کے تناظر میں مزید دو سال انتظار کر سکتا ہے۔
جرمن ادارے ایس ڈبلیو پی سے وابستہ ماہر وون ڈینیئلز نے خبردار کیا ہے کہ یورپی یونین کو امریکا کی جانب سے نئے تجارتی محصولات کے خطرے کا سامنا ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے خطرات
آرمز کنٹرول ٹوڈے کے نومبر کے شمارے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں جوہری ہتھیاروں کے نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مضمون کے مطابق بنیادی خطرہ مصنوعی ذہانت کو براہ راست جوہری ہتھیار چلانے کا اختیار ملنے سے زیادہ غلط معلومات، تیز رفتار فیصلوں اور انسانی ردعمل کے لیے کم ہوتے وقت سے متعلق ہے۔
ادھر انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے علی واعظ نے خبردار کیا ہے کہ ایران اپنی موجودہ سفارتی اور عسکری پوزیشن سے ضرورت سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے، جس سے خطے میں بحران مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔





