ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب قطر نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کے لیے نئی تجویز تیار کی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق صدر ٹرمپ کے سامنے ایران سے متعلق تین راستے زیر غور ہیں۔ ان میں فوجی حملے، مذاکرات اور بحری ناکہ بندی و پابندیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانا شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی حکام ممکنہ کارروائی کی تیاریاں مکمل کرنے کے مراحل میں ہیں۔ تاہم علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر کی تیار کردہ ایک تجویز کے تحت آئندہ چند روز میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے 3 نومبر کو فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر کارروائی کے لیے تیار ہے، تاہم ممکن ہے اس کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران اب بھی حالت جنگ میں ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 4 نومبر کے پیغام میں خبردار کیا کہ جارحیت دہرائی گئی تو اس کے نتائج کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران کے ساتھ سفارت کاری جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ روس اور چین نے بھی تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔
امریکی انتخابات اور ایران پالیسی
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان کے بعد کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مضبوط پوزیشن ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے انتخابات سے قبل خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیا تھا۔
مبصرین کے مطابق کانگریس میں مخالف اکثریت آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کے لیے دباؤ بڑھا سکتی ہے، جس سے مزید فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح ملنے کا امکان ہے۔
چین کی سفارت کاری
چین نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر مساعد العیبان اور ایرانی عہدیدار علی باقری کنی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق بیجنگ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مناسب اور جامع حل چاہتا ہے۔
چینی ترجمان ماؤ ننگ نے بھی کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ تنازع شروع ہونے سے روکنا اس وقت سب سے اہم ترجیح ہے۔
خلیجی ممالک پر حملے
4 نومبر کو ایران کی پاسداران انقلاب سے متعلق بعض عسکری دعوے سامنے آئے۔ ان میں متحدہ عرب امارات اور بحرین کو دھمکی دینے، آبنائے ہرمز میں چار تیل بردار جہازوں میں بارودی مواد نصب کرنے اور امریکی ایم کیو 9 اور ایم کیو 1 ڈرونز مار گرانے کے دعوے شامل ہیں۔
حوثیوں نے بھی سعودی عرب کے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔





