پاکستان کے پاس جدید لڑاکا طیارے ہیں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی ہیں، لیکن کیا وہ اپنے طیاروں کے لیے جدید فضائی میزائل خود بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہا ہے؟ تین نومبر 2026 کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے مقامی میزائل فاز کے تجربے نے یہ سوال ایک بار پھر اہم بنا دیا ہے۔
پاک فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں جے ایف 17 تھنڈر سے میزائل داغتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بظاہر یہ ایک میزائل کا تجربہ ہے، لیکن اس کے پیچھے پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی پیش رفت کا امکان موجود ہے۔ اصل اہمیت صرف میزائل داغنے میں نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کو خود تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں ہے۔
فاز کا منصوبہ اچانک سامنے نہیں آیا۔ 2023 میں ترکیہ کے دفاعی میلے آئیڈیف میں پاکستان کی سرکاری کمپنی جی آئی ڈی ایس اس کے دو ماڈل پیش کر چکی تھی۔ ان میں ایک ریڈار گائیڈنس اور دوسرا انفراریڈ گائیڈنس نظام سے لیس تھا۔ دونوں کی رینج 100 کلومیٹر سے زیادہ بتائی گئی تھی۔
اب اس منصوبے کا تجرباتی مرحلے تک پہنچنا اہم ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی میں کسی ہتھیار کا ماڈل تیار کرنا ایک مرحلہ ہے، لیکن اسے طیارے سے داغ کر اس کے نظام کو عملی طور پر آزمانا بالکل مختلف معاملہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے اس منصوبے کو محض تصور سے آگے لے جانے میں کامیاب ہوا ہے۔
حالیہ تجربے میں انفراریڈ ورژن استعمال کیا گیا۔ یہ نظام ہدف سے خارج ہونے والی حرارت کی مدد سے اس کا تعاقب کرتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اسے ہدف کی تلاش کے لیے مسلسل ریڈار پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ تاہم میزائل کی اصل کارکردگی کا اندازہ اس وقت ہوگا جب اس کی ہدف کو تلاش کرنے، تعاقب کرنے اور نشانہ بنانے کی صلاحیتوں کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان کے پاس چین کا پی ایل 15 ای اور دیگر فضائی میزائل موجود ہیں تو اسے فاز تیار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
اس کا جواب دفاعی خود انحصاری میں پوشیدہ ہے۔
جدید جنگ میں صرف لڑاکا طیاروں کی تعداد اہم نہیں ہوتی بلکہ ان کے ساتھ استعمال ہونے والے ہتھیار بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر کسی ملک کو اپنے طیاروں کے لیے میزائل، پرزے یا جدید نظام بیرون ملک سے حاصل کرنا پڑیں تو جنگی حالات میں اس کی صلاحیت بیرونی سپلائی اور سیاسی فیصلوں سے متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکی ساختہ ایف 16 طیاروں اور ان کے استعمال سے متعلق پابندیوں کی مثال اس مسئلے کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ اس کے برعکس مقامی میزائل کی تیاری سے پاکستان کو اس کے ڈیزائن، اپ گریڈ، پیداوار اور طیاروں کے ساتھ مطابقت بہتر بنانے میں زیادہ اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔
فاز کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ پاکستان کے موجودہ میزائل نظاموں کا متبادل بننے کے بجائے ان کے ساتھ ایک اضافی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے۔ مختلف گائیڈنس نظاموں کے حامل میزائلوں کی موجودگی فضائیہ کو مختلف حالات میں ہدف کے خلاف متعدد طریقے اختیار کرنے کا موقع دیتی ہے۔
اصل امتحان
فاز کے حوالے سے ایک اہم بحث یہ بھی ہے کہ اسے کس حد تک مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کی ساخت میں چینی میزائلوں سے مشابہت کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم صرف ظاہری مماثلت کی بنیاد پر اسے نقل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ایئر ویپنز کمپلیکس کی جانب سے میزائل کے لیے راکٹ موٹر تیار کرنے کی صلاحیت اس منصوبے کا اہم پہلو ہے۔ راکٹ موٹر میزائل کے بنیادی نظاموں میں شامل ہے اور اس کی تیاری میں مہارت حاصل کرنا مستقبل کے مزید جدید میزائل منصوبوں کے لیے بھی کام آ سکتی ہے۔
البتہ مکمل خود انحصاری کا تعین صرف ایک حصے کی مقامی تیاری سے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے گائیڈنس سسٹم، سیکر، الیکٹرانکس، سافٹ ویئر اور دیگر اہم اجزا کی تیاری اور انضمام میں بھی مقامی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
بھارت کے ساتھ فضائی مقابلہ
جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کا مقابلہ پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارت کے پاس رافیل طیاروں کے ساتھ یورپی میٹیور میزائل موجود ہے، جبکہ وہ اپنے آسترا میزائل پروگرام کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
اس تناظر میں فاز پاکستان کے لیے ایک نئی تکنیکی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ اس کا موجودہ ورژن رینج کے اعتبار سے خطے کے بعض جدید میزائلوں سے مختلف سطح پر ہے، تاہم مستقبل میں اس کے مزید جدید ورژن تیار کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
فاز ٹو کے حوالے سے 180 کلومیٹر یا اس سے زیادہ رینج کی بات کی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان اس مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے میزائل کی رفتار، رہنمائی اور طویل فاصلے تک مؤثر رہنے کی صلاحیت میں مزید پیش رفت کرنا ہوگی۔ اس ضمن میں ریم جیٹ جیسی ٹیکنالوجی بھی اہم ہو سکتی ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے صرف بھارت کے ساتھ فضائی توازن کا معاملہ نہیں بلکہ مستقبل کی دفاعی ٹیکنالوجی میں اپنی جگہ بنانے کا موقع بھی ہے۔
پاکستان جے ایف 17 تھنڈر کو پہلے ہی بین الاقوامی دفاعی منڈی میں پیش کر رہا ہے۔ اگر مقامی طور پر تیار کردہ میزائل اس طیارے کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے تو یہ مکمل دفاعی پیکج کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
اس سے پاکستان کو صرف لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے بجائے اس کے ساتھ استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور متعلقہ ٹیکنالوجی کی پیشکش کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے میزائل کی قابل اعتماد کارکردگی، عملی استعمال اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترنا ضروری ہوگا۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب اس منصوبے کو تجربے سے آگے لے جانا ہے۔ ابھی یہ واضح ہونا باقی ہے کہ میزائل نے کسی عملی ہدف کو نشانہ بنایا یا نہیں، اسے پاک فضائیہ میں کب شامل کیا جائے گا اور ریڈار گائیڈنس والا ورژن کس مرحلے پر ہے۔
فاز کی کامیابی کا حتمی اندازہ اس کی عملی کارکردگی اور فضائیہ میں شمولیت کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ تاہم اس تجربے نے پاکستان کے سامنے ایک اہم راستہ ضرور کھولا ہے۔
بالآخر کسی ملک کی دفاعی طاقت کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کون سے جدید ہتھیار موجود ہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ انہیں کس حد تک خود تیار، بہتر اور جدید بنا سکتا ہے۔ فاز کی اصل اہمیت بھی اسی پہلو میں ہے۔ یہ محض ایک نئے میزائل کا تجربہ نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔





