اسلام آباد میں پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطحی ویبینار منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے اور کاروباری روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز کے اشتراک سے منعقدہ ویبینار میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے شرکت کی۔ اس موقع پر روس کی نائب وزیر بیلا چیرکیسووا، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سیکریٹری آئی ٹی ضرار ہاشم خان اور دونوں ممالک کی معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
چھ اہم شعبوں میں تعاون
پانچ نومبر کو منعقد ہونے والا یہ ویبینار پاک روس ویبینار سیریز کا تیسرا حصہ تھا۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کاروباری شراکت داری، مشترکہ منصوبوں اور نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرنا تھا۔
اجلاس میں چھ اہم شعبوں پر توجہ دی گئی۔ ان میں مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، اہم ڈیجیٹل نظاموں کا تحفظ، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی تجارت و سرمایہ کاری، ڈیجیٹل مہارتوں کا تبادلہ اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل تھے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی ترقی اور تبدیلی کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ پاکستان اور روس اس شعبے میں تعاون بڑھا کر مشترکہ مصنوعات، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تیار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی منصوبے ’اڑان پاکستان‘ کے تحت ای پاکستان معاشی تبدیلی کے پانچ اہم ستونوں میں شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2035 تک پاکستان کی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
احسن اقبال کے مطابق پاکستان میں ہر سال 75 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں۔ حکومت کا ہدف 2030 تک 10 لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیار کرنا اور تحقیق و جدت کے فروغ کے لیے 7 نئے اے آئی مراکز قائم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کی سائنسی اور انجینئرنگ مہارت کو پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کے ساتھ ملا کر مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
وفاقی وزیر نے پاکستان کے ڈیجیٹل نظام کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نادرا کا ڈیجیٹل شناختی نظام عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ فوری ادائیگیوں کے نظام ’راست‘ کے ذریعے ایک سہ ماہی میں 64 کروڑ 60 لاکھ لین دین مکمل کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔
احسن اقبال نے دونوں ممالک کی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ بات چیت کو عملی کاروباری نتائج میں تبدیل کریں۔ ان کے مطابق مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں اضافہ اس تعاون کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہوگا۔
روسی نائب وزیر کی ڈیجیٹل تعاون پر زور
روسی فیڈریشن کی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، مواصلات اور ذرائع ابلاغ بیلا چیرکیسووا نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان ڈیجیٹل معیشت، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاک روس تعلقات زیادہ پختہ اور کثیرالجہتی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تجارت دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کا نیا ستون بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو میں پاکستانی سفارتی مشن، پی ایس ای بی کے ساتھ مل کر پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے روسی منڈی میں کاروباری مواقع پیدا کرے گا۔
مشترکہ منصوبوں کے لیے 90 روزہ روڈ میپ کی تجویز
پی ایس ای بی کے چیف ایگزیکٹو فیصل جیدی نے کہا کہ پاکستانی اور روسی کمپنیوں کے درمیان کاروباری روابط کو عملی معاہدوں میں تبدیل کرنے کے لیے واضح طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں موزوں کمپنیوں کا انتخاب، مشترکہ آزمائشی منصوبوں پر اتفاق اور دونوں ممالک میں رابطہ افسران کی نامزدگی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس ای بی کمپنیوں کو ابتدائی رابطے سے کاروباری معاہدے تک معاونت فراہم کرے گا۔
روسی سافٹ ویئر انڈسٹری کی تنظیم روس سوفٹ کے صدر ویلنٹن ماکاروف اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب احمد خان نے بھی مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کی سافٹ ویئر صنعتوں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
ڈاکٹر شعیب احمد خان نے مقامی زبانوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور ڈیٹا کی تیاری میں روس کے ساتھ تعاون کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور جدید کمپیوٹنگ میں روسی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مشترکہ ٹیکنالوجی مصنوعات کی تیاری کا 90 روزہ روڈ میپ پیش کرنے کی تجویز بھی دی۔
سائبر سکیورٹی میں تعاون کے مواقع
ویبینار کے ایک سیشن میں پاکستانی اور روسی کمپنیوں کے نمائندوں نے سائبر سکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مالیاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں مشترکہ مصنوعات کی تیاری پر گفتگو کی۔
ایبرکس کے چیف ایگزیکٹو احرار نقوی نے کہا کہ پاکستانی سائبر سکیورٹی کمپنیوں کے لیے روس اور وسطی ایشیا کی منڈیوں میں شراکت داری کے مواقع موجود ہیں۔ دونوں ممالک اپنی مصنوعات اور انجینئرنگ مہارت یکجا کرکے عالمی معیار کے حل تیار کر سکتے ہیں۔
پازیٹو ٹیکنالوجیز کے نمائندے یگور ریکوف نے سائبر سکیورٹی اور اہم ڈیجیٹل نظاموں کے تحفظ کے لیے تکنیکی تعاون کی اہمیت اجاگر کی۔
ٹی ایم سی کے گروپ چیف ایگزیکٹو اور منیجنگ ڈائریکٹر عبدالحمید نے کہا کہ انٹرپرائز سافٹ ویئر اور مالیاتی ٹیکنالوجی میں مشترکہ مصنوعات تیار کرکے دونوں ممالک کی منڈیوں کے علاوہ تیسرے ممالک تک بھی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
روسی کوانٹم سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر الیکسی اکیموف نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس میں تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی۔
مشترکہ منصوبے جلد شروع
اختتامی خطاب میں سیکریٹری وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ضرار ہاشم خان نے کہا کہ ویبینار میں سائبر سکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں تعاون کے لیے ٹھوس مواقع کی نشاندہی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت آئی ٹی دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان کاروباری روابط بڑھانے، نئی منڈیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں دور کرنے میں معاونت کرے گی۔
ضرار ہاشم خان کے مطابق پی ایس ای بی اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ ابتدائی مشترکہ آزمائشی منصوبے بلا تاخیر شروع کیے جا سکیں۔





