اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے کالعدم حافظ گل بہادر گروپ سے مبینہ تعلق رکھنے والے افغان شہری تقویٰ کو بھارت کا ویزا جاری کیے جانے اور نئی دہلی میں طبی سہولیات کی فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پکتیا سے تعلق رکھنے والے اس افغان شہری نے ستمبر کے آخر میں بھارت کا سفر کیا جہاں اس کا جراحی کا عمل مکمل ہوا ہے۔
حاصل شدہ معلومات کے مطابق تقویٰ کے تعلقات مارچ 2025 کے بانو کینٹ خودکش حملے میں ملوث افغان شہری عبد الرزاق اظہر کے ساتھ قائم رہے ہیں۔ دونوں افراد کی ایک ساتھ تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد سیکیورٹی ماہرین نے خطے میں فعال شدت پسند شبکوں اور ان کے سفارتی و طبی سہولت کاروں پر تشویش ظاہر کی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کابل کی موجودہ انتظامیہ اور بھارتی حکام کی جانب سے اس نوعیت کے افراد کی سفر اور علاج میں معاونت خطے کے امن و امان کے لیے انتہائی خطرہ بن سکتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے اراکین کو بین الاقوامی سرحدی اجازت نامے اور ویزے ملنا ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔
عالمی برادری اور سیکیورٹی اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پائے جانے والے دوہرے معیارات اور اس طرح کے مشکوک اقدامات کا سختی سے نوٹس لیں، تاکہ شدت پسند عناصر کو کسی بھی نوعیت کی پناہ گاہ یا سہولت میسر نہ ا سکے۔





