پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ سرحدی کشیدگی کے تناظر میں غیر ملکی میڈیا کی جانب سے کابل کے مختلف حصوں پر بمباری کے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کابل کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی محاذ آرائی میں مزید شدت آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
فضائی کارروائیوں کے دعوے
غیر ملکی خبر رساں اداروں اور سوشل میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کابل کے مخصوص مقامات پر بمباری کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان کاروائیوں کے حوالے سے تاحال کسی بھی جانب سے باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ان دعووں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مقامی ذرائع کابل میں دھماکوں اور فضائی نقل و حرکت کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
Pakistan has once again started bombing different parts of Kabul.#aamajnews pic.twitter.com/nmxoi2MssM
— Aamaj News English (@aamajnews_EN) February 27, 2026
نقصانات کی تفصیلات
کابل پر ہونے والی اس مبینہ بمباری کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے بارے میں تاحال کوئی بھی مستند تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ سکیورٹی ماہرین ان اطلاعات کو انتہائی حساس قرار دے رہے ہیں، تاہم مکمل اعداد و شمار اور نشانہ بننے والے مقامات کی نوعیت کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ فریقین کی جانب سے کسی بھی باضابطہ بیان کے انتظار میں صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔