پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

آپریشن “غضب للحق” میں شدت، 133 افغان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ؛ کابل سمیت مختلف شہروں میں فضائی کارروائیاں

وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے ہیں۔
آپریشن “غضب للحق” میں شدت، 133 افغان اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ؛ کابل سمیت مختلف شہروں میں فضائی کارروائیاں

دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل، قندھار اور پکتیا میں پاکستان کے فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

February 27, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن “غضب للحق” کے دوران اب تک افغان طالبان رجیم کے 133 کارندے ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی فورسز نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئیں جبکہ 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ مزید برآں 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

عطا تارڑ کے مطابق پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی جاری ہے، تاہم اس دوران دو پاکستانی اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔

دوسری جانب افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل، قندھار اور پکتیا میں پاکستان کے فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے، تاہم جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات سے متعلق مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *