عرب میڈیا پر پیر کے روز نشر کی گئی ایک ریکارڈ شدہ تقریر میں حماس کے نئے ترجمان نے انکشاف کیا کہ اگست میں ابو عبیدہ کو اسرائیل نے شہید کر دیا تھا اور ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ سمیر الکہلوت تھا۔ نئے ترجمان نے بتایا کہ وہ بھی اسی جنگی نام، یعنی ابو عبیدہ، کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ حماس نے باضابطہ طور پر الکہلوت کی اصل شناخت کی تصدیق کی ہے۔ وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک القسام بریگیڈز کے ترجمان اور عسکری میڈیا یونٹ کے سربراہ رہے اور اس دوران کبھی اپنا چہرہ ظاہر نہیں کیا۔ عرب دنیا میں وہ سرخ رومال (کفیہ) میں چہرہ ڈھانپے ہوئے اپنی تقاریر کے باعث “نقاب پوش” کے نام سے مشہور تھے۔
نئے ابو عبیدہ نے اپنے بیان میں کہا،
“ہم عظیم رہنما حذیفہ سمیر الکہلوت، ابو ابراہیم، القسام کے میڈیا نظام کے سربراہ کی شہادت پر سوگ مناتے ہیں، جنہوں نے بیس سال تک دشمنوں کو ناکام بنایا اور اہلِ ایمان کے دلوں کو حوصلہ دیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ
“ہم سرخ کفیہ میں ملبوس اس نقاب پوش شخصیت، امت کی گرجدار آواز ابو عبیدہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا اور میدانِ جنگ سے براہِ راست ان سے مخاطب رہے۔”
نئے ترجمان نے اس موقع پر القسام بریگیڈز کے سابق کمانڈر محمد السنوار کی مئی میں ہلاکت اور دیگر سینئر عسکری رہنماؤں، جن میں رائد سعد بھی شامل ہیں، کی شہادت کی بھی تصدیق کی۔

حذیفہ سمیر الکہلوت بیس سال سے زائد عرصے تک حماس کے عسکری ترجمان رہے۔ وہ اپنی تقاریر میں میدانِ جنگ کی صورتحال، عسکری کامیابیوں اور اسرائیل کو براہِ راست للکارنے کے باعث غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔ عرب دنیا میں ان کی آواز، انداز اور شناخت کو احتجاجی مظاہروں اور نغمات میں بھی اپنایا گیا۔
ان کی شہرت میں خاص طور پر اکتوبر 2023 کے بعد نمایاں اضافہ ہوا، جب حماس کے اچانک حملے اور اس کے بعد غزہ پر اسرائیلی جنگ نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔
2005 میں ایک انٹرویو کے دوران الکہلوت نے بتایا تھا کہ ان کا خاندان 1948 کی نکبہ کے دوران صہیونی ملیشیاؤں کے ہاتھوں بے دخل ہوا اور غزہ کے ایک مہاجر کیمپ میں آباد ہوا۔ ذرائع کے مطابق ان کی اصل شناخت ان کی زندگی میں حماس کے چند انتہائی قریبی افراد تک ہی محدود تھی۔
“ابو عبیدہ” کا نام انہوں نے دوسری انتفاضہ (2000–2005) کے دوران اختیار کیا، جو غالباً رسولِ اکرم ﷺ کے جلیل القدر صحابی اور عظیم سپہ سالار ابو عبیدہ بن الجراحؓ کی طرف اشارہ ہے۔
ان کی پہلی عوامی پیشی 2004 میں شمالی غزہ پر اسرائیلی زمینی حملے کے دوران ایک پریس کانفرنس کی صورت میں ہوئی۔ 2006 میں انہوں نے اسرائیلی فوجی گلاد شالیت کی گرفتاری کا اعلان کیا، جبکہ 2014 میں ایک اور اسرائیلی فوجی شاؤل آرون کی گرفتاری کی اطلاع بھی سب سے پہلے انہوں نے دی۔
اکتوبر 2024 میں ان کی ایک تقریر خاص طور پر وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے عرب حکمرانوں کو غزہ کے لیے انسانی امداد نہ پہنچانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا جملہ “خدا نہ کرے” بعد ازاں عرب دنیا میں ایک علامتی نعرہ بن گیا۔
اسرائیل گزشتہ 20 برسوں میں کئی بار انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر چکا تھا، جن میں اکتوبر 2023 کے بعد کی دو کوششیں بھی شامل ہیں۔ اپریل 2024 میں امریکا نے انہیں حماس کا “انفارمیشن وارفیئر چیف” قرار دیتے ہوئے پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ابو عبیدہ کی شخصیت اور کردار حماس کی عسکری اور ابلاغی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا، اور ان کی شہادت کے باوجود تنظیم نے اسی نام اور علامت کے ساتھ تسلسل برقرار رکھنے کا پیغام دیا ہے۔