"> کنڑ شیلنگ کا تنازع: افغان طالبان کا پاکستان پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام؛ پاکستان نے دعوی رد کر دیا
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کنڑ شیلنگ کا تنازع: افغان طالبان کا پاکستان پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام؛ پاکستان نے دعوی رد کر دیا

پاکستان کی کارروائیاں مخصوص معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت، ٹھکانوں اور فائرنگ پوزیشنز کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کو
افغانستان کا پاکستان پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام

دہشتگرد عناصر اکثر شہری آبادی کے قریب پناہ لے کر کارروائیاں کرتے ہیں، جس کے بعد ممکنہ ردعمل کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

March 29, 2026

اسلام آباد: کنڑ میں مبینہ شہری اور بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق افغان طالبان سے منسلک حلقوں کے دعوؤں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں پاکستان کی انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو “اندھا دھند حملوں” کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی کارروائیوں میں شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم زمینی حقائق اس بیانیے کی تائید نہیں کرتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی صرف دہشتگرد ٹھکانوں اور عسکری اہداف کو نشانہ بناتی ہے اور کارروائیاں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ایک مسلسل پیٹرن ہے جہاں ہر انسداد دہشتگردی کارروائی کو بغیر کسی آزاد تصدیق یا جغرافیائی شواہد کے “شہری ہلاکتوں” کے بیانیے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کنڑ طویل عرصے سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروہوں کا مرکز رہا ہے، جہاں سے پاکستان کے خلاف حملے کیے جاتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 2025 میں 600 سے زائد ٹی ٹی پی حملوں کے روابط افغان سرزمین، خصوصاً کنڑ سے ملتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی کارروائیاں مخصوص معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کی نقل و حرکت، ٹھکانوں اور فائرنگ پوزیشنز کو نشانہ بناتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کو۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر اکثر شہری آبادی کے قریب پناہ لے کر کارروائیاں کرتے ہیں، جس کے بعد ممکنہ ردعمل کو پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی رپورٹس میں بھی افغانستان میں 20 سے زائد دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کی جا چکی ہے، تاہم افغان حکام کی جانب سے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مبینہ ہلاکتوں کے دعوؤں کے حوالے سے کوئی ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہیں آئے، جس سے ان بیانات کی ساکھ مشکوک ہو جاتی ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان متعدد بار افغان حکام سے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے، مگر خاطر خواہ پیشرفت نہ ہونے کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔

دیکھئیے:سعودی وزیر خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *