ورلڈ بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں پاک افغان سرحدی گزر گاہیں بند کیے جانے کے نتیجے میں افغانستان کی برآمدات میں تاریخی کمی واقع ہوئی، تاہم ملکی معیشت کے دیگر شعبوں نے استحکام کا مظاہرہ کیا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ افغانستان کی برآمدات کی مالیت کم ہوکر محض 162 ملین امریکی ڈالر رہ گئی۔ یہ پچھلے مہینے کے مقابلے میں 25 فیصداور گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 15 فیصد کی نمایاں گراوٹ ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ کمی بنیادی طور پر پاکستان سرحدی راستوں پر عائد پابندیوں کا نتیجہ ہے، جس نے تجارتی راستوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ س صورتحال نے برآمد کنندگان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی تجارت بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کی جانب منتقل کریں، تاہم ان متبادل ذرائع سے ترسیلات میں بڑی تاخیر اور لاگت میں اضافے کے مسائل درپیش رہے۔
بھارتی منڈی
تجارتی راستوں کی تبدیلی کے ساتھ ہی بھارت دسمبر میں افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی مقام بن کر سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کی کل برآمدات کا 61.2 فیصد حصہ اب بھارت کو بھیجا جاتا ہے، جو خطے میں تجارتی اتحادوں کے نئے دھارے کی نشاندہی کرتا ہے۔
درآمدات اور کرنسی میں استحکام
برآمدات کی گراوٹ کے برعکس درآمدات میں استحکام برقار رہا۔ دسمبر میں درآمدات 1.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچیں، جس میں ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر 5 فیصد کا یکساں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں اس اضافے کی اہم وجہ وطن واپس آنے والے افراد کی بڑی تعداد کے باعث ملکی سطح پر طلب میں تسلسل کو قرار دیا گیا ہے۔
افغان کرنسی افغانی نے بھی مثبت کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دسمبر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں ماہانہ بنیاد پر 0.4 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں مجموعی طور پر 5.8 فیصد کی قابلِ ذکر بہتری ریکارڈ کی گئی۔ یہ رحجان کرنسی کے بازار میں بڑھتا ہوا اعتماد اور نسبتی استحکام کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
حکومتی مالیات کے حوالے سے بھی مثبت خبر سامنے آئی۔ دسمبر میں محصولات کی کل وصولی 24.1 ارب افغانی (تقریباً 363.1 ملین امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی، جو گذشتہ مہینے کے مقابلے میں 2.9 فیصد اور گذشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہے۔ یہ وصولی سرکاری ریونیو نظام میں مستقل مزاجی اور بہتری کی عکاس ہے۔
ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ افغان معیشت کے سامنے موجود چیلنجز اور مواقع دونوں کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف بیرونی جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں نے برآمدات کو شدید متاثر کیا ہے، وہیں ملکی سطح پر معاشی سرگرمی، کرنسی کا استحکام اور بہتر ہوتی ہوئی محصولات کی وصولی، معیشت کی لچک کو ظاہر کرتی ہے۔ مستقبل میں متبادل تجارتی راستوں کے فروغ اور خطائی تعاون پر توجہ افغان تجارت کے لیے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ رپورٹ افغان معیشت کی دوہری حقیقت کو سامنے لاتی ہے۔ ایک طرف بیرونی چیلنجز برآمدات کے لیے سنگین رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، تو دوسری طرف درآمدات، کرنسی کی قدر اور محصولات کی وصولی میں پائیداری ظاہر ہو رہی ہے، جو ملکی معاشی سرگرمی کی لچک کو واضح کرتی ہے۔
دیکھیں: ٹرمپ مسٔلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل سکتے ہیں، بھارت میں خدشات