ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے والے 260 ہلاک افغان شدت پسندوں کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے۔

October 1, 2026

گورنر راج اور ایمرجنسی دو الگ آئینی اقدامات ہیں، جن کی شرائط اور طریقۂ کار بھی مختلف ہیں۔

October 1, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟

ڈیرہ اسماعیل میں شادی کی تقریب کے میزبان ملک نور حسن اس حملے کو ’پشتون روایات‘ کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’شادی کی تقریب جاری تھی، بڑی تعداد میں مہمان پنڈال اور اس کے ساتھ بنے کمرے میں موجود تھے، پنڈال میں نوجوان اتنڑ کر رہے تھے، بارات دلہن لے کر پہنچی ہی تھی کہ اتنے میں زود دار دھماکہ ہوا۔‘
ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟

خودکش دھماکے کی تفتیش کرنے والے افسر کا کہنا ہے کہ ’وحید عرف جگری پنڈال کے ساتھ واقع کمرے میں بیٹھے تھے جہاں خود کش حملہ آور گیا اور پھر دھماکہ ہوا۔‘

January 28, 2026

گذشتہ ہفتے خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شادی کی تقریب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے منحرف کمانڈر وحید محسود عرف جگری محسود سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور پولیس کا کہنا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

پولیس نے اسے ایک خودکش حملہ قرار دیا ہے اور اس میں چھ افراد کی ہلاکت اور سات کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

مقامی حکام اور صحافیوں کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے وحید محسود کچھ سال قبل تک کالعدم ٹی ٹی پی سے منسلک تھے۔

شادی کی اس تقریب پر ہونے والے اس حملے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی تھیں۔

ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شادی کی تقریب میں لوگ روایتی رقص ’اتنڑ‘ میں مصروف تھے کہ اچانک زور داردھماکہ ہوا اور اس کے بعد اندھیرا چھا گیا۔

ایک اور ویڈیو میں سفید چارد اوڑھے ایک شخص کو پنڈال میں کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک کمرے کی طرف جاتا ہے اور ایک زوردار دھماکہ ہوتا ہے، جس کے بعد عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری اب تک کسی شدت پسند تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

مقامی پولیس اہلکاروں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مقامی لوگوں اور ریسکیو اہلکاروں نے ملبے کے نیچے سے میتیں اور زخمیوں کو نکال کر ہسپتال پہنچایا تھا۔

سنیچر کی رات کیا ہوا تھا؟

یہ واقعہ سنیچر کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں واقع قریشی موڑ پر ایک مکان میں پیش آیا ہے۔

یہ مکان مقامی ٹھیکیدار اور امن کمیٹی کے رہنما ملک نور حسن کا ہے، جہاں ان کے بھتیجے کی شادی کی تقریب تھی۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’شادی کی تقریب جاری تھی، وہاں ایک طرف پنڈال تھا اور دوسری جانب مہمانوں کے لیے کمرے میں جگہ بنائی گئی تھی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’جیسے ہی گاڑیوں میں بارات واپس پہنچی تو اس وقت وہاں رش بڑھ گیا اور اس دوران مہمانوں کے کمرے میں 9 بجکر 35 منٹ پر زور دار دھماکہ ہوا، جس سے کمرے کی چھت اور دیواریں گر گئیں۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’ملبے سے ایک سر بھی نکالا گیا ہے، جو خود کش بمبار کا سر تھا لیکن اس کا جسم کہیں نہیں مل سکا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق مدعی کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے بلکہ ’امن کے قیام میں حکومت پاکستان کی مدد کرنے اور امن کمیٹی کی سرپرستی کرنے کی وجہ سے نا معلوم حملہ آوروں نے خوف و ہراس پھیلانے کے لیے یہ کارروائی کی ہے۔‘

اس حملے اور اس کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر متعدد لوگ وحید محسود عرف جگری محسود سے متعلق باتیں کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔

وحید محسود عرف جگری محسود کون تھے؟

سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی دیکھی گئی جس میں وحید محسود سر پر ٹوپی پہنے دیگر افراد کے ساتھ علاقائی رقص اتنڑ میں مصروف نظر آئے۔

بی بی سی اردو اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ یہ ویڈیو ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والی شادی کی ہے یا اس سے قبل کسی اور مقام پر ریکارڈ کی گئی ہے۔

خودکش دھماکے کی تفتیش کرنے والے افسر کا کہنا ہے کہ ’وحید عرف جگری پنڈال کے ساتھ واقع کمرے میں بیٹھے تھے جہاں خود کش حملہ آور گیا اور پھر دھماکہ ہوا۔‘

وحید محسود سے متعلق معلومات رکھنے والے مقامی صحافی محمد انور کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق محسود قبائل کی بہلول زئی شاخ سے تھا۔

محمد انور کی معلومات کے مطابق جب سابق ٹی ٹی پی کمانڈر بیت اللہ محسود نے پہلی مرتبہ جنوبی وزیرستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کا دفتر قائم کیا تو وحید محسود ان کے ساتھ تھے۔

مقامی صحافی مزید کہتے ہیں کہ ’اس کے بعد تنظیم جب دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی تو ایک طرف حکیم اللہ محسود تھے اور دوسری جانب ولی الرحمان، اس وقت وحید جگری نے حکیم اللہ کا ساتھ دیا تھا۔‘

محمد انور مزید کہتے ہیں کہ ولی الرحمان اور شہریار محسود کی ہلاکت کے بعد وحید محسود کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم رہنما کے طور پر منظرِ عام پر آئے تھے۔

’تاہم بعد میں ٹی ٹی پی میں اختلافات پیدا ہونے کے بعد وحید محسود نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور وہ حکومت کا ساتھ دے رہے تھے۔‘

وحید محسود کے بارے میں سرکاری ذرائع کے پاس موجود تفصیلات کے مطابق ان کا اصل نام عبدالوحید عرف جگری تھا اور وہ ان دنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں رہائش پزیر تھے، جبکہ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا۔

’یہ حملہ پشتون روایات کے خلاف ہے‘

ڈیرہ اسماعیل میں شادی کی تقریب کے میزبان ملک نور حسن اس حملے کو ’پشتون روایات‘ کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’شادی کی تقریب جاری تھی، بڑی تعداد میں مہمان پنڈال اور اس کے ساتھ بنے کمرے میں موجود تھے، پنڈال میں نوجوان اتنڑ کر رہے تھے، بارات دلہن لے کر پہنچی ہی تھی کہ اتنے میں زود دار دھماکہ ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ دھماکہ پنڈال میں ہوتا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔‘

نور حسن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا، ہم پشتونوں کی روایات ہیں کہ کسی کی شادی یا خوشی کی تقریب میں اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے محسود قبیلے سے ہے اور ان کا خاندان 2008 سے اپنے علاقے میں شدت پسندوں اور مسلح تنظیموں کے خلاف ہے ’کیونکہ ان کی وجہ سے ان کے علاقے میں غیر ملکی آ گئے تھے اور علاقے کا امن خراب ہوگیا تھا۔‘

نور حسن کے مطابق شدت پسندی کے واقعات میں اب تک ان کے خاندان کے 10 افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

نوٹ: یہ نیوز اسٹوری عزیز اللہ خان نے بی بی سی اردو کیلئے لکھی۔ کاپی رائٹ حقوق عزیز اللہ خان اور بی بی سی اردو محفوظ رکھتے ہیں۔

دیکھیں: ٹرمپ مسٔلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل سکتے ہیں، بھارت میں خدشات

متعلقہ مضامین

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *