افغان حکام نے وزارت خارجہ کی سالانہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سابقہ کارکردگی کے مقابلے میں حالیہ کارکردگی کو اہم کامیابی قرار دیا۔
رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خارجہ امیر متقی نے روس کا امارت اسلامیہ افغانستان کو تسلیم کرنے کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا۔ وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا اس اقدام سے افغانستان کا بین الاقوامی سطح پر مثبت چہرہ سامنے آیا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ گذشتہ برس چین، پاکستان، متحدہ عرب امارات، ازبکستان سمیت روس اور ترکی میں بھی امارت اسلامیہ افغانستان کے سفیر متعین ہوچکے ہیں جبکہ قازقستان نے بھی سفیر قبول کرنے پر آمادگی اور دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وزیرِ خارجہ امیر متقی نے مزید بتایا کہ جرمنی، ناروے، بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں بھی سفیر بھیجے گئے ہیں۔ ان کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان نے امریکی حکام سے بھی براہ راست دوطرفہ ملاقاتیں کی ہیں اور افغانستان کی حکومت متوازن پالیسی کے تحت دنیا کے تمام ممالک بشمول امریکہ سے مثبت تعلقات کی خواہشمند ہے۔
وزارت خارجہ میں قونصلر امور کے سربراہ ڈاکٹر محمد شعیب بریالی نے بتایا کہ گذشتہ سال کے دوران 176 ممالک میں تقریباً ڈھائی لاکھ غیر ملکیوں کو ویزے جاری کیے گئے، جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 60 فی صد زیادہ ہیں۔
حکام کے مطابق گذشتہ سال امارت اسلامیہ کے وفود کے 100 سے زائد بیرونی دوروں کو منظم اور آسان بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کابل نے روس، امریکہ، قازقستان، ترکمانستان، ازبکستان، پاکستان، ایران، قطر، سعودی عرب، ملائیشیا، انڈونیشیا اور اقوامِ متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ سطحی وفود کی میزبانی کی۔
حکام نے بتایا کہ خارجہ پالیسی کے تحت افغان ٹرانس ریل منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی سے متعلق معاہدہ کیا، جب کہ ٹاپی منصوبے پر عملی کام کا آغازگزشتہ سال میں ہو، کاسا اور لاجورد راہداری سمیت دیگر علاقائی منصوبوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے وزارت خارجہ کے مطابق ڈپلومیسی انسٹیٹیوٹ کے تحت سرکاری اداروں کے درجنوں ملازمین کے لیے تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
یورپی ممالک میں مقیم افغان شہریوں کے لیے اہم اعلان کیا کہ جرمنی کے شہر بون میں واقع پاسپورٹ دفتر جو گذشتہ چار سال سے بند تھا، جلد دوبارہ کھولا جائے گا۔ مذکورہ اقدام سے یورپ میں مقیم افغان شہریوں کو پاسپورٹ سے متعلق سہولت ملے گی۔
وزارت خارجہ کے مطابق برآمدات و سرمایہ کاری میں اضافہ اور سستے بازاروں تک رسائی کے لیے مختلف ممالک سے تجارتی معاہدے سمیت دیگر ضروری سہولتیں حاصل کی گئی ہیں، جس سے تجارت میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ اقتصادی روابط کے شعبے نے ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر اداروں سے روابط کے ذریعے تعطل کا شکار منصوبوں کو بحال کرنے، نجی شعبے کی معاونت، غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی کے لیے تعاون کی راہ ہموار کی ہے۔
دیکھیں: افغان حکومت کا ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور مختلف شہروں میں بسانے کا فیصلہ