افغانستان میں میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کو فروغ دینے کے لیے تیسرے عالمی سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں بین الاقوامی اور مقامی صحافیوں اور انسانی حقوق تنظیموں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس تقریب میں افغان حکومت کی میڈیا پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ افغان طالبان کے حکومتی اقدامات صحافیوں کے لیے خطرات کا باعث بن رہے ہیں۔
سمپوزیم میں پیش کیے گئے تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں افغانستان میں صحافیوں کے خلاف 230 سے زائد حملے اور دھمکیاں درج کی گئی ہیں جن میں حملے، گرفتاری اور بلاوجہ کی پابندیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان کے دور حکومت کے بعد میڈیا کی کوریج میں 40 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے بالخصوص خواتین صحافیوں اور آزاد تحقیقی رپورٹس پر۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی ناکام پالیسیوں اور طالبان کی جنگی ذہنیت نے افغانستان میں صحافتی آزادی کو محدود کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں حقائق کے برعکس خبریں پیش کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو متاثر کیا ہے بلکہ خطے میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے لیے بھی خطرہ پیدا کیا ہے۔
سمپوزیم میں شریک صحافیوں نے اپنی مشکلات و مسائل بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کی نااہلی اور طالبان کے دباؤ کے باعث افغان میڈیا بنیادی سہولیات اور مالی معاونت سے محروم ہیں۔ اس موقع پر افغان میڈیا سپورٹ آرگنائزیسن نے کہا ہے کہ صحافیوں کو محفوظ و آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق افغانستان 2024 میں ریپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے عالمی انڈیکس میں 153 ویں نمبر پر رہا، جو واضح کرتا ہے کہ ملک میں صحافیوں کی حفاظت اور میڈیا کی آزادی سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ ماہرین نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ افغان میڈیا کی آزادی و تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
دیکھیں: نیدرلینڈز میں افغان خواتین کا تاریخی اجتماع: افغان طالبان کی پالیسیوں پر تنقید