افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے اعلیٰ تعلیم شیخ ندا محمد ندیم کی جانب سے یونیورسٹی کے ایک طالب علم پر تشدد کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق وزیرِ موصوف نے ایک طالب علم کو محض اس لیے سرِعام تھپڑ رسید کر دیا کہ اس نے یونیورسٹی کی حدود میں اپنی روایتی “ازبک ٹوپی” پہن رکھی تھی۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ کابل یونیورسٹی کے دورے کے دوران پیش آیا جہاں ادب کے ایک طالب علم اور وزیرِ ہائر ایجوکیشن کے درمیان تکرار ہوئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شیخ ندا نے طالب علم کی جانب سے پہنی گئی ازبک ٹوپی پر اعتراض کیا، جس کے بعد ہونے والی تلخ کلامی پر وزیر نے آپے سے باہر ہو کر طالب علم کے چہرے پر تھپڑ دے مارا اور اسے سخت تذلیل کا نشانہ بنایا۔
ثقافتی اور روایتی شناخت
واضح رہے کہ ازبک ٹوپی افغانستان میں آباد ازبک نژاد شہریوں کی قدیم جڑوں اور ان کی مخصوص روایتی ثقافت کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ افغانستان کے کثیر القومی معاشرے میں مختلف لسانی اور نسلی گروہ اپنی روایات کے مطابق لباس اور ٹوپیاں پہنتے ہیں، تاہم وزیر کے اس جارحانہ اقدام کو نسلی امتیاز اور ثقافتی جبر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی و سماجی ردِعمل
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی خبر وائرل ہونے کے بعد افغان عوام اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے طلبہ کے ساتھ ایسا تضحیک آمیز سلوک تعلیمی اداروں میں خوف کا ماحول پیدا کر سکتا ہے اور یہ عدم برداشت کی انتہا ہے۔ اب تک افغان وزارتِ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ وضاحت یا معذرت سامنے نہیں آئی ہے۔