افغانستان کی نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں طالبان کے کئی رہنماؤں کے نام پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیے گئے۔
فرنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طالبان گزشتہ تقریباً پانچ برسوں سے سخت گیر پالیسیاں نافذ کیے ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق طالبان حکومت نے خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا، شہری اور سیاسی آزادیوں کو محدود کیا اور ملک میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کی۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کا کہنا ہے کہ طالبان نے غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے کر خطے کے دیگر ممالک میں بھی عدم استحکام کو بڑھایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی پالیسیوں یا رویے میں کسی واضح تبدیلی کے بغیر پابندیوں میں نرمی عالمی دباؤ کم کرنے کے مترادف ہے جو افغان عوام کیلئے تشویشناک ہے۔
فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ طالبان نہ صرف افغانستان میں جبر کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں جیسے گروہوں کی حمایت کے ذریعے ہمسایہ ممالک کے امن کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔
افغان نیشنل موبلائزیشن فرنٹ نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان پر دباؤ کم کرنے کے بجائے افغان عوام کے حقوق، آزادی اور ایک جامع سیاسی نظام کے قیام کی حمایت کریں
دیکھئیے:مذہبی آزادی کی عالمی صورتحال پر امریکی رپورٹ جاری؛ افغانستان اور بھارت میں حالات سنگین قرار