اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ نے افغانستان واپس آنے والوں کے لیے روزگار کے بحران پر خطرناک انتباہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 11 فیصد واپس آنے والے افغان شہری ہی باقاعدہ ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں، جبکہ 89 فیصد یا تو بے روزگار ہیں یا غیر مستقل اور کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ “محض افغانستان واپس آنا کامیاب دوبارہ انضمام کی ضمانت نہیں ہے”۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک ہزاروں افغان شہری پاکستان، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک سے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
UN warns only 11% of Afghan returnees have found employmenthttps://t.co/31MnMAbDH4
— Ariana News (@ArianaNews_) January 11, 2026
The United Nations has warned that returning to Afghanistan does not guarantee successful reintegration, with new figures showing that only 11 percent of Afghan returnees have been able to find… pic.twitter.com/6HUNLc7zDj
رپورٹ میں اس بحران کی چار بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں: پہلی وجہ طالبان کے قیامِ حکومت کے بعد معیشت کی شدید بدحالی ہے جس میں بین الاقوامی امداد کا معطلی ہونااور سرمایہ کاری کا جمود شامل ہے۔ دوسری بڑی وجہ خواتین پر تعلیمی اور کاروباری پابندیاں ہیں، جس نے خاندانی آمدنی کے ذرائع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تیسری وجہ خشک سالی اور آبپاشی کے نظام کی کمی ہے، جس نے دیہی علاقوں میں روایتی روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔ چوتھی وجہ طویل عرصے تک مہاجرت کی زندگی گزارنے والے افراد میں موجودہ بازار کے مطابق ہنر یا تعلیم کا فقدان ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “وطن واپسی کے ساتھ ساتھ معاشی خودمختاری، تحفظ اور بنیادی خدمات تک رسائی ضروری ہے”۔ رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور واپس آنے والوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے فوری اقدامات کرے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین سربراہ خاندانوں کے لیے ہنر مندی کی تربیت اور چھوٹے کاروباروں کے قیام کے پروگراموں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، موجودہ صورت حال اگر جاری رہی تو یہ نہ صرف ایک انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے بلکہ افغانستان میں طویل مدتی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ افغانستان میں موجودہ حکومت کی طرف سے اب تک واپس آنے والوں کے لیے کوئی جامع روزگار کی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے، جس سے بحران کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ، میڈیا اور انٹرنیٹ بندش