پاکستان کی سلامتی اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں مصلحت کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں پشین اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کاروائیوں نے جہاں دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا وہیں ان حقائق سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے کہ ‘فتنہ الخوارج’ کے روابط اب بھی سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے منسلک ہیں۔ آئی ایس پی آر کی رپورٹ کے مطابق ان کاروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو نہ صرف پڑوسی ممالک سے پشت پناہی حاصل تھی بلکہ انہیں بھارتی سرپرستی میں تخریب کا حکم دیا گیا تھا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک جانب ‘آماج نیوز’ جیسی ویب سائٹس دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ افغان جامعات سے خودکش بمباروں کی بھرتی اور پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی بتا رہی ہیں تو دوسری جانب عالمی برادری نے پُراسرار سکوت اختیار کر رکھا ہے۔ دوحہ معاہدے کے وقت بڑے وثوق سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر آج وہی سرزمین دہشت گردوں کے لیے تربیت گاہ بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بارہا متنبہ کر چکی ہیں کہ افغانستان میں بیس سے زائد دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں لیکن عالمی قوتوں کا سکوت کسی عالمی جنگ یا کسی بڑے انسانی المیے کے انتظار میں سو رہا ہے۔
مذکورہ صورتحال میں سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی جانب سے پاکستان کی دفاعی کاروائیوں پر تنقید ‘الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے’ کے مترادف ہے۔ خلیل زاد کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ خطے میں آج جو بارود کی جو فضا پھیلی ہے، وہ ان کی اسی ناکام سفارت کاری کا نتیجہ ہے جس نے دہشت گرد گروہوں کو لگام دینے کے بجائے انہیں سیاسی راستہ فراہم کیا۔ خلیل زاد کی پالیسیوں نے افغانستان کو محفوظ بنانے کے بجائے اسے ایک ایسے خلا میں دھکیل دیا جہاں ٹی ٹی پی اور القاعدہ جیسے گروہ اب سرِعام پاکستان کی خود مختاری کو چیلنج کر رہے ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسائے کا کردار نبھایا، ہر مقام پر افغان حکام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے واضح ثبوت پیش کیے، مگر جب اشتعال انگیزی حد سے بڑھ جائے تو ریاست کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کا چارٹر واضح طور پر ہر ریاست کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی بقا اور سلامتی کے لیے خطرے کے مرکز ومنبع کو نشانہ بنائے۔ پاکستان کا “عزمِ استحکام” کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے تحفظ کا وہ اٹل فیصلہ ہے جس سے اب پیٹھ پھیرنا ممکن نہیں۔
افغان عبوری حکومت کو اپنی سرزمین پر موجود ان گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرنے ہونگے جو پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ بدامنی کی یہ چنگاری اگر ایک بار بھڑک اٹھی تو اس کا اثر کابل سے بھی دور تک جائے گا۔ عالمی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ سکوت سے باہر نکلیں اور پاکستان کے حقِ دفاع کو تسلیم کریں، کیونکہ دہشت گردی کے اس ناسور کا علاج زبانی کلامی نہیں بلکہ فیصلہ کُن اور دو ٹوک کاروائی میں موجود ہے۔
دیکھیے: پاکستان نے افغانستان میں خوارج کے 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی