امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حالیہ انٹرویو میں افغانستان پر عائد عالمی پابندیوں کو ناجائز قرار دیتے ہوئے علاقائی عدم استحکام میں افغان سرزمین کے استعمال کی تردید کی ہے، تاہم عالمی مبصرین اور سکیورٹی ماہرین ان دعوؤں کو زمینی حقائق کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات اور روس کی جانب سے ملنے والی وارننگز کو نظرانداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سرحدی کشیدگی کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔
عالمی اداروں اور اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس کے مطابق طالبان پر عائد پابندیاں سیاسی نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود فعال دہشت گرد ڈھانچے سے جڑی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور 13 ہزار سے زائد غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جو طالبان کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین پر حاصل ترجیحی رسائی اور وہاں سے پاکستان پر ہونے والے 600 سے زائد دستاویزی سرحد پار حملوں نے ذبیح اللہ مجاہد کے “استحکام” کے دعووں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خدشات کو نظرانداز کرنا ان دستاویزی شواہد کو جھٹلانے کے مترادف ہے جن کے مطابق ٹی ٹی پی افغان علاقے میں 58 سے زائد مقامات پر فعال ہے۔ پاکستان کی جانب سے سرحدی بندش اور دہشت گرد ٹھکانوں پر کاروائی دراصل اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر سکیورٹی اقدامات تھے۔ اسی طرح وسطی ایشیائی ریاستوں اور سی ایس ٹی او کی جانب سے سرحدی نفری میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی محدود ہونے کے بجائے برآمد ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، جب تک دہشت گرد نیٹ ورکس کا قابلِ تصدیق خاتمہ، مالی شفافیت اور انسانی حقوق کی تعمیل نہیں ہوتی، تب تک عالمی تنہائی کا خاتمہ ممکن نہیں۔