اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے 2025 کے آخری تین ماہ میں 287 افراد کو اعلانیہ کوڑے مارے، جن میں 30 خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ سزائیں زنا، ہم جنس پرستی اور غیر ازدواجی تعلقات کے الزامات پر دی گئی تھیں۔ متاثرہ افراد کو 10 ماہ سے 6 سال تک قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔
قتل کے مقدمات
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے 12 مردوں کو قتل کے جرم میں اعلانیہ موت کی سزا دی۔ اس کے ساتھ ہی طالبان نے خواتین کی اعلیٰ تعلیم، بیوٹی سیلونز اور دیگر سماجی سرگرمیوں پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں، جو انسانی حقوق کے عالمی معیار کے خلاف ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفاتر میں پابندیاں
ستمبر سے طالبان نے افغانستان میں تمام اقوام متحدہ کے دفاتر میں افغان خواتین، بشمول عملے، ٹھیکیداروں اور وزیٹرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی اداروں کے کام پر اثر پڑا ہے بلکہ خواتین کے انسانی حقوق بھی مزید محدود ہو گئے ہیں۔
In the last quarter of 2025 (between Oct 1 & Dec 31), #Afghanistan's Taliban regime publicly flogged 287 people, including 30 women, for offenses such as adultery, homosexuality, and extramarital relations, according to the latest @UNAMAnews human rights situation report. The…
— Ayaz Gul (@AyazGul64) February 8, 2026
علاقائی اور عالمی تناظر
اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے مبصرین نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغان خواتین اور عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ طالبان کی یہ پابندیاں خواتین کی تعلیم، معاشرتی کردار اور روزگار کے مواقع محدود کر رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے عالمی معیار کے بھی واضح تضاد کی عکاسی کرتی ہیں۔
افغانستان میں طالبان کے زیرِ انتظام انسانی حقوق کی صورتحال میں مسلسل بگاڑ دیکھا جا رہا ہے۔ اعلانیہ سزائیں، خواتین کی تعلیم اور سماجی سرگرمیوں پر پابندیاں، اور اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلے پر پابندیاں عالمی تشویش کا سبب بن چکی ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی برادری اس بحران کے حل اور افغان خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔