پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘

January 13, 2026

افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟

January 13, 2026

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، چین ہمیشہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی دباؤ یا مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جسے ایرانی حکومت اور عوام کو خود حل کرنا چاہیے۔

January 12, 2026

رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام ان کی لاش ان کے بیڈروم سے ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس حکام نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

January 12, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے لیے پاکستان کے ممکنہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے نام سامنے آ گئے ہیں، جن پر ہیڈ کوچ، کپتان اور سلیکشن کمیٹی کے درمیان رواں ہفتے حتمی مشاورت متوقع ہے

January 12, 2026

ہرات میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم نے احتجاج کے دوران برقعے جلا دیے

ہرات میں یہ احتجاج ان پابندیوں کے خلاف افغان خواتین کی مزاحمت کی تازہ مثال ہے۔ خطرات کے باوجود خواتین نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ افغان عورت اب بھی اپنی شناخت، آزادی اور وقار کے لیے کھڑی ہے۔
ہرات میں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم نے احتجاج کے دوران برقعے جلا دیے

مظاہرین نے اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی توڑیں اور فوری اقدامات کریں۔

November 10, 2025

افغانستان کے صوبہ ہرات میں طالبان حکومت کے حالیہ حکم نامے کے خلاف ایک غیرمعمولی احتجاج ہوا، جس میں خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکنوں اور سول سوسائٹی نے برقع (چادر) پہننے کے لازمی حکم کو مسترد کرتے ہوئے علامتی طور پر برقعوں کو آگ لگا دی۔

مظاہرین نے اس اقدام کو خواتین کی عزت، شناخت اور بنیادی انسانی حقوق پر حملہ قرار دیا۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود یہ احتجاج افغان خواتین کے بڑھتے ہوئے غصے اور طالبان کی پابندیوں سے بیزاری کی ایک طاقتور علامت بن گیا۔

“میں عورت ہوں، سایہ نہیں” افغان خواتین کی للکار

احتجاج کے دوران خواتین نے ایسے نعرے بلند کیے جو افغان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا:
“میں عورت ہوں، سایہ نہیں — میری آواز مت دباؤ”،
“سانس لینا ہمارا حق ہے”،
“نیلا رنگ جبر کا نہیں، آزادی کا ہے”،
“برقع ایک پنجرہ ہے — مگر پرندہ پھر بھی گاتا ہے”،
“آسمان اور میں دونوں نیلے ہیں — مگر آسمان آزاد ہے”۔

ان نعروں کے ذریعے مظاہرین نے طالبان کے نئے حکم کو خواتین کی آزادی، شناخت اور معاشرتی شرکت پر کاری ضرب قرار دیا۔

سول سوسائٹی کا ردعمل: “غیر اسلامی اور غیر انسانی فیصلہ”

افغان سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں طالبان کے برقع لازمی حکم کو “غیر اسلامی، غیر انسانی اور عورت دشمن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں جبر کی کوئی گنجائش نہیں۔


بیان میں کہا گیا کہ”خواتین کو برقع پہننے پر مجبور کرنا نہ اسلامی اقدار کے مطابق ہے، نہ انسانی وقار کے۔ افغان خواتین کو معاشرے میں آزادانہ شرکت، عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے اور خوف کے بغیر اپنی شناخت کے اظہار کا حق حاصل ہے۔” تنظیموں نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان کا یہ فیصلہ مذہب نہیں بلکہ ظلم اور جبر کا آلہ ہے۔

عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل

مظاہرین نے اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی توڑیں اور فوری اقدامات کریں۔


ان کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا:
“افغان خواتین کی آواز خاموش نہیں کی جا سکتی — ان کے دلوں میں امید اور روشنی ہمیشہ زندہ رہے گی۔”

پس منظر: افغان خواتین پر بڑھتی پابندیاں

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغان خواتین پر سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ان میں لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی، ملازمت کی ممانعت، محرم کے بغیر سفر پر پابندی، اور سخت لباس کے ضوابط شامل ہیں۔

ہرات میں یہ احتجاج ان پابندیوں کے خلاف افغان خواتین کی مزاحمت کی تازہ مثال ہے۔ خطرات کے باوجود خواتین نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ افغان عورت اب بھی اپنی شناخت، آزادی اور وقار کے لیے کھڑی ہے۔

دیکھیں: پاک افغان مذاکرات میں تعطل، اختلافات بدستور برقرار

متعلقہ مضامین

پاکستانی وزیرِ نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان اطلاعات کی تردید نہیں کی اور کہا کہ ’میں آپ کو واضح طور پر تو کچھ نہیں بتا سکتا، لیکن اتنا ضرور بتاؤں گا کہ پاکستان میں یو اے ویز (ڈرونز) پر پرائیوٹ سیکٹر میں بھی بہت سارا کام ہو رہا ہے، بہت ساری پرائیوٹ کمپنیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔‘

January 13, 2026

افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟

January 13, 2026

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، چین ہمیشہ ریاستی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کا حامی رہا ہے اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بیرونی دباؤ یا مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران کی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جسے ایرانی حکومت اور عوام کو خود حل کرنا چاہیے۔

January 12, 2026

رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام ان کی لاش ان کے بیڈروم سے ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس حکام نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

January 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *