دہشت گردوں کے قبضے میں موجود کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے اس کا دوبارہ استعمال ممکن نہ ہو۔

February 15, 2026

موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنائیں۔ مشترکہ گشت، سفارتی رابطوں اور اقتصادی شمولیت کے ذریعے خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

February 15, 2026

مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہا ہے، اور مختلف مواقع پر اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے خطے میں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل المدتی استحکام کے لیے سیاسی مکالمہ اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

February 15, 2026

واقعے کے بعد اہل خانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہنگامی طبی صورتِ حال کے لیے راستہ یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت رسائی مل جاتی تو شاید بچی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

February 15, 2026

ذرائع کے مطابق مارگلہ سے ملحقہ بعض علاقوں میں غیر منظم کرشنگ سرگرمیوں نے قدرتی ماحول اور جنگلاتی رقبے کو نقصان پہنچایا تھا۔ نئی شجرکاری مہم اسی متاثرہ زمین کو دوبارہ سرسبز بنانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔

February 15, 2026

پولیس کے مطابق حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے، تاہم علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے۔ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

February 15, 2026

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں اضافہ؛ ایک ماہ میں 16 حملے، 48 طالبان اہلکار جاں بحق

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں اضافہ؛ ایک ماہ میں 16 حملے، 48 طالبان اہلکار جاں بحق

مجموعی طور پر این آر ایف اور اے ایف ایف کی ان کارروائیوں میں 48 طالبان جنگجو ہلاک، 25 زخمی اور 3 گاڑیاں تباہ ہوئیں، جو طالبان حکومت کو درپیش مسلسل سیکیورٹی چیلنجز اور ملک میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔

January 12, 2026

افغانستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں نمایاں شدت دیکھی گئی ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کی جانب سے مختلف صوبوں میں مجموعی طور پر 16 حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 48 طالبان جنگجو ہلاک اور 25 زخمی ہوئے، جبکہ طالبان کی 3 گاڑیاں بھی تباہ کر دی گئیں۔ سب سے زیادہ حملے صوبہ قندوز میں رپورٹ ہوئے، جب کہ پنجشیر، بغلان، فاریاب، بدخشاں اور کابل میں بھی طالبان کے انٹیلی جنس چیک پوسٹس، اڈوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

مزاحمتی ذرائع کے مطابق این آر ایف نے اس عرصے کے دوران 7 حملے کیے، جن میں 29 طالبان جنگجو ہلاک اور 15 زخمی ہوئے، جبکہ 2 فوجی گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ پنجشیر میں ایک بڑی کارروائی کے دوران طالبان کی ایک بٹالین بیس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 17 طالبان ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ قندوز اور بغلان میں چیک پوسٹس پر حملے کیے گئے اور طالبان کے حملوں کو پسپا کیا گیا، جب کہ ہرات میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران طالبان انٹیلی جنس کے اہلکار ہلاک ہوئے اور اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ قبضے میں لیا گیا۔

این آر ایف کی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم کا بنیادی ہدف طالبان کے عسکری ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ قندوز میں متعدد حملوں کے نتیجے میں 5 طالبان ہلاک، 5 زخمی اور 2 گاڑیاں تباہ ہوئیں، جبکہ بغلان میں طالبان کی جانب سے گھات لگا کر کیے جانے والے حملے کو ناکام بنا دیا گیا، جس میں 3 طالبان مارے گئے۔ پنجشیر اور ہرات میں ہونے والے نقصانات کے ساتھ یہ کارروائیاں این آر ایف کی مختلف صوبوں میں آپریشنل صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

دوسری جانب افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) نے بھی مختلف علاقوں میں 9 حملے کیے، جن میں 20 طالبان جنگجو ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، جبکہ ایک گاڑی تباہ کی گئی۔ اے ایف ایف کی کارروائیاں قندوز، بدخشاں، فاریاب اور کابل میں ہوئیں، جہاں طالبان کے بھرتی مراکز، ریزرو یونٹس، بٹالین بیسز اور انٹیلی جنس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اے ایف ایف کی نمایاں کارروائیوں میں قندوز میں طالبان کے ایک بھرتی مرکز پر حملہ شامل ہے، جس میں ایک اہم کمانڈر سمیت 2 طالبان ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔ بدخشاں میں گورنر آفس کے قریب طالبان کے ریزرو یونٹ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ فاریاب میں ایک بٹالین بیس پر حملے کے بعد یکم جنوری کو طالبان کی عدالتی پولیس پر راکٹ حملہ کیا گیا، جس میں 4 طالبان ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ کابل میں بھی طالبان انٹیلی جنس کی گاڑیوں اور چیک پوسٹس پر الگ الگ حملے کیے گئے۔

مجموعی طور پر این آر ایف اور اے ایف ایف کی ان کارروائیوں میں 48 طالبان جنگجو ہلاک، 25 زخمی اور 3 گاڑیاں تباہ ہوئیں، جو طالبان حکومت کو درپیش مسلسل سیکیورٹی چیلنجز اور ملک میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کی واضح عکاسی کرتی ہیں۔

دیکھیں: افغان نائب گورنر کے بیٹے سمیت دو بچے اغواء، ریسکیو آپریشن کے بعد رہا

متعلقہ مضامین

دہشت گردوں کے قبضے میں موجود کمپاؤنڈ، جو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کے لیے اس کا دوبارہ استعمال ممکن نہ ہو۔

February 15, 2026

موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان، ایران اور افغانستان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنائیں۔ مشترکہ گشت، سفارتی رابطوں اور اقتصادی شمولیت کے ذریعے خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

February 15, 2026

مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہا ہے، اور مختلف مواقع پر اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے خطے میں انسانی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طویل المدتی استحکام کے لیے سیاسی مکالمہ اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔

February 15, 2026

واقعے کے بعد اہل خانہ نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کے دوران ہنگامی طبی صورتِ حال کے لیے راستہ یقینی بنانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت رسائی مل جاتی تو شاید بچی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

February 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *