افغانستان میں القاعدہ برصغیر کی سرگرمیوں میں حالیہ غیر معمولی اضافہ اور تنظیمی توسیع خطے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی مرکزی قیادت اور طالبان کی معاونت سے بھرتیوں کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ تربیت یافتہ اور ماہر جنگجوؤں کو تیزی سے القاعدہ برصغیر۔ کے ڈھانچے میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ننگرہار، کنڑ، خوست، پنجشیر، تخار اور نیمروز جیسے اہم صوبوں میں تنظیم کے تربیتی مراکز فعال ہو چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ القاعدہ برصغیر نے خطے میں سرگرم دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ ایک منظم رابطہ کاری کا نظام وضع کیا ہے۔ اس اشتراکِ عمل میں پکتیا اور خوست میں جماعت الاحرار، نورستان و کنڑ میں داعش کے افغان گروہ، اور شمالی افغانستان میں آئی ایم یو، ٹی ٹی ٹی اور ای ٹی آئی ایم جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔ پنجشیر میں قائم ایک مخصوص مرکز کو ‘مہمان خانہ’ قرار دیا گیا ہے جہاں تنظیم کی مرکزی قیادت اور غیر ملکی دہشت گرد اپنی اگلی تعیناتیوں کے منتظر ہیں۔
تنظیمی ڈھانچے کی تفصیلات کے مطابق القاعدہ کا عملیاتی ہیڈکوارٹر ننگرہار کے علاقے درہ نور میں واقع ہے، جس کی نگرانی امیر اسامہ محمود کر رہے ہیں۔ امور کی انجام دہی کے لیے القاعدہ اور طالبان کے درمیان “امہ واحدہ کمیٹی” تشکیل دی گئی ہے، جس میں یحییٰ ابو طلحہ، عبدالرزاق الکردی، ابو عبدالرحمٰن اور جمعہ خان منصور جیسے اہم نام شامل ہیں۔ طالبان کی جانب سے پنجشیر کے گورنر محمد آغا حکیم اس ہم آہنگی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایک اہم پیش رفت کے طور پر القاعدہ کے دیرینہ رکن اور سعودی شہری محمد جعفر جمال القحطانی المعروف ابو ناصر القحطانی کی افغانستان واپسی ہوئی ہے، جنہیں تمام تربیتی کیمپوں کا نگران مقرر کیا گیا ہے۔ القحطانی، جو 2005 میں بگرام جیل سے فرار ہونے والے گروہ کے واحد زندہ رکن ہیں، حالیہ عرصہ ترکی میں گزارنے کے بعد فضائی راستے سے افغانستان پہنچے ہیں۔ کابل میں قیام کے دوران انہوں نے سراج الدین حقانی سے بھی ملاقات کی ہے اور اب وہ تمام تربیتی مراکز کے مابین رابطہ کار کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
مختلف علاقوں میں قائم مراکز کی سربراہی بھی تجربہ کار غیر ملکی ارکان کے سپرد کی گئی ہے۔ پکتیا میں ابو اخلاص المصری، ہلمند کے ضلع دیشو میں فلسطینی شہری ابو بکر محمد، اور نیمروز میں عراقی نژاد سراج ابو محمد کردستانی مراکز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پنجشیر کے علاقے دشتک میں سابق امریکی فوجی ہیڈکوارٹر اب ایرانی شہری عبدالرحمٰن فارسی کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ بدخشاں کے کیمپ کی ذمہ داری صالح محمد عبداللہ الیمنی سنبھالے ہوئے ہیں۔ ماہرین اس صورتحال کو عالمی اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک نئے اور پیچیدہ چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔